Skip to content
Home » Blog » صنفی مساوات، قدیم و جدید تناظر

صنفی مساوات، قدیم و جدید تناظر

  • by

صنفی مساوات،
قدیم و جدید تناظر

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہزاروں برس پہلے کے ارتقائی دور میں، جب نہ شہر تھے، نہ زمینوں کی رجسٹری، نہ بینک اکاؤنٹ، اور نہ ہی جدید سماجی ڈھانچہ… انسان چھوٹے چھوٹے گروہوں میں جنگلوں، میدانوں اور دریاؤں کے کنارے زندگی گزارتا تھا۔

یہ وہ دور تھا جسے ماہرینِ بشریات Hunter-Gatherer Society کہتے ہیں۔
اس زمانے میں مرد عموماً شکار پر جاتے تھے۔ کبھی ہرن، کبھی جنگلی بکری، اور کبھی کئی کئی دن تک کچھ بھی ہاتھ نہ آتا۔ شکار خطرناک بھی تھا اور غیر یقینی بھی۔ لیکن جب شکار کامیاب ہوتا تو پورا قبیلہ گوشت کھاتا، پروٹین مہیا ہوتی، غذائی ضرورت پوری ہوتی، اور جسمانی طاقت ملتی۔

دوسری طرف عورتیں صرف “گھر میں بیٹھی ہوئی مخلوق” نہیں تھیں، جیسا کہ بعد کی تہذیبوں نے تصور قائم کیا، اور بعض سماجوں نے تو اسے فطری، مذہبی اور ازلی حقیقت بھی سمجھ لیا۔ وہ جنگلی پھل، جڑیں، بیج، شہد اور سبزیاں جمع کرتی تھیں۔ انہیں محفوظ رکھتی تھیں، خشک کرتی تھیں، بانٹتی تھیں، اور بچوں کو سکھاتی تھیں کہ کون سا پودا زہریلا ہے اور کون سا فائدہ مند۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید تحقیق کے مطابق بہت سی قدیم آبادیوں میں روزمرہ خوراک کا بڑا حصہ انہی gathered foods سے آتا تھا، نہ کہ شکار سے۔ یعنی عورتیں صرف “مددگار” نہیں بلکہ خوراکی نظام کا مرکزی ستون تھیں۔

مشہور ماہرِ حیوانیات اور مصنف Desmond Morris نے اپنی تحریروں میں اس نکتے پر گفتگو کی ہے کہ ابتدائی انسانی معاشروں میں مرد اور عورت کے کردار مختلف ضرور تھے، مگر ان کی اہمیت ایک دوسرے کے قریب تھی۔ طاقت کا مرکز صرف ایک جنس نہیں تھی بلکہ بقا دونوں کے اشتراک سے ممکن تھی۔

آج بھی افریقہ کے بعض !Kung San، تنزانیہ کے Hadza، اور دیگر قدیم طرزِ زندگی رکھنے والے hunter-gatherer قبائل کا مطالعہ کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ وہاں عورتوں کو نسبتاً زیادہ آزادی، رائے اور سماجی احترام حاصل ہوتا ہے۔ کئی جگہ فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں، اور خوراک کی تقسیم نسبتاً مساوی ہوتی ہے۔

پھر ایک عظیم انقلاب آیا۔

زراعت۔

انسان نے پہلی بار زمین پر مستقل قبضہ کرنا شروع کیا۔ کھیت بنے، اناج ذخیرہ ہونے لگا، مویشی جمع ہونے لگے۔ اب مسئلہ صرف خوراک پیدا کرنے کا نہیں تھا بلکہ “ملکیت” کی حفاظت کا تھا۔
اور یہیں انسانی تاریخ کا سماجی توازن بدلنے لگا۔
زمین، طاقت اور جنگ کا تعلق مضبوط ہوا۔

جسمانی قوت اہم بنتی گئی۔ مرد، جو پہلے صرف شکار کرتے تھے، اب زمین، مویشی اور وسائل کے محافظ بن گئے۔
رفتہ رفتہ وراثت، خاندان، نسل اور جائیداد کے تصورات نے عورت کو زیادہ تر گھر، بچوں کی پرورش، اور اندرونی دائرے تک محدود کرنا شروع کر دیا۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ ہزاروں سال میں تہذیب کے اندر سرایت کرتی چلی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج جدید دنیا ایک عجیب دائرہ مکمل کرتی دکھائی دیتی ہے۔ علم، ٹیکنالوجی، اور ڈیجیٹل معیشت کے دور میں جسمانی طاقت کی اہمیت کم ہو رہی ہے، جبکہ ذہنی، تخلیقی، اور سماجی صلاحیتیں زیادہ اہم بنتی جا رہی ہیں۔

شاید اسی لیے دنیا دوبارہ اس سوال کی طرف لوٹ رہی ہے:
کیا انسان کی اصل طاقت ہمیشہ تعاون میں تھی، غلبے میں نہیں؟

اور شاید انسانی تہذیب کی سب سے بڑی غلط فہمی یہی تھی کہ اس نے “فرق” کو “برتری” سمجھ لیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *