Skip to content
Home » Blog » سشروتا: انسانی تاریخ کا پہلا پلاسٹک سرجن

سشروتا: انسانی تاریخ کا پہلا پلاسٹک سرجن

  • by

سشروتا: انسانی تاریخ کا پہلا پلاسٹک سرجن

شارق علی
ویلیوورسٹی

کاشی کے قدیم شہر میں ایک کمرے کے اندر چند نوجوان شاگرد خاموشی سے اپنے استاد کو دیکھ رہے تھے۔ استاد ایک کدو کو بڑی احتیاط سے چاقو سے چیر رہے تھے۔ یہ کوئی معمولی عمل نہیں تھا۔ وہ اپنے شاگردوں کو سرجری کی مشق کرا رہے تھے۔ استاد نے مسکرا کر کہا:
“جراحی میں ہاتھ کی مہارت ضروری ہے، اور مہارت صرف مشق سے پیدا ہوتی ہے۔”

یہ استاد تھے سشروتا۔ جنہیں طب کی تاریخ میں دنیا کے اولین عظیم سرجنوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

سشروتا تقریباً 600 قبل مسیح میں قدیم ہندوستان کے شہر کاشی (موجودہ واراناسی) میں رہے۔

انہیں اکثر “Father of Surgery” کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے جراحی کے اصولوں کو منظم اور عملی انداز میں بیان کیا۔ ان کی مشہور کتاب سشروتا سمہتا قدیم طب کی ایک غیر معمولی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں 184 ابواب، 1100 سے زیادہ بیماریوں کی وضاحت، 300 جراحی طریقوں اور تقریباً 120 جراحی آلات کا ذکر ملتا ہے۔

سشروتا خاص طور پر ناک کی دوبارہ تعمیر (Nose Reconstruction) کے طریقے کے لیے مشہور ہیں۔ اس زمانے میں بعض مجرموں کی سزا کے طور پر ناک کاٹ دی جاتی تھی۔ سشروتا نے پیشانی کی جلد سے نئی ناک بنانے کی سرجری کا طریقہ بیان کیا، جو طب کی تاریخ میں ایک حیرت انگیز پیش رفت تھی۔

وہ اپنے شاگردوں کو صرف نظری تعلیم نہیں دیتے تھے بلکہ عملی تربیت پر بھی زور دیتے تھے۔ پھلوں اور سبزیوں پر چیرا لگانے کی مشق اور مردہ جانوروں پر جراحی کی تربیت دراصل اس طریقۂ تعلیم کی ابتدائی شکل تھی جسے آج جدید طب میں سمیولیشن ٹریننگ کہا جاتا ہے۔

سشروتا نے سرجری میں صفائی کے طریقوں، آلات کی تیاری اور مریض کی دیکھ بھال پر بھی خاص زور دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بہت سے اصول بعد میں عرب دنیا کے ذریعے یورپ تک پہنچے اور جدید سرجری کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔

یوں ہزاروں سال پہلے کا یہ معلم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم اور مہارت کی تلاش انسان کو زمانوں سے آگے لے جا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *