Skip to content
Home » Blog » سرخ روشنائی سے لکھا لفظ

سرخ روشنائی سے لکھا لفظ

  • by

سرخ روشنائی سے لکھا لفظ

پہلی کہانی

شارق علی
ویلیوورسٹی

نوٹ: (یہ چار کہانیوں پر مشتمل ایک ادبی غیر افسانوی (Literary Non-fiction) سلسلہ ہے، جو لداخ کے معروف ماہرِ تعلیم سونم وانگچک اور ان کے تعلیمی ادارے SECMOL سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ اس کا اندازِ بیان ادبی ہے، جبکہ تعلیمی فلسفہ، ماحول اور بنیادی معلومات حقیقی ہیں۔)

برف ابھی پوری طرح پگھلی نہیں تھی۔
صبح کی پہلی کرن پہاڑوں کی چوٹیوں پر اتر چکی تھی۔ ہماری وادی تک پہنچنے میں اسے ابھی کچھ دیر باقی تھی۔

دور کہیں یاکوں کی گھنٹیوں کی مدھم آواز خاموشی کو آہستہ آہستہ توڑ رہی تھی۔

میں اسکول کی عمارت سے باہر نکلا تو میری مٹھی میں ایک تہہ کیا ہوا کاغذ تھا۔

باقی لڑکے شور مچاتے ہوئے کچھ دور نیچے گاؤں کی طرف دوڑ رہے تھے۔ کوئی ہنس رہا تھا، کوئی ایک دوسرے کا بستہ کھینچ رہا تھا۔ آج میرے قدم غیر معمولی طور پر سست تھے۔
میں نے راستے میں رک کر ایک بار پھر کاغذ کھولا۔

سرخ روشنائی سے صرف ایک لفظ لکھا تھا۔

FAIL

ہوا کا ایک جھونکا آیا۔
کاغذ میرے ہاتھ میں لرزنے لگا۔

میں نے ایک لمحے کو سوچا، کیا واقعی ایک لفظ کسی انسان کو اتنا حقیر اور بے معنی بنا سکتا ہے؟

میں نے کاغذ تہہ کیا اور جیب میں رکھ لیا۔
گھر ابھی کافی دور تھا۔
راستے میں ایک جگہ برف پگھل کر پانی کی ایک پتلی دھار میں بدل چکی تھی۔ چند پتھر اپنی جگہ سے سرک گئے تھے۔ پانی کھیت کی طرف جانے کے بجائے راستے میں بہہ کر ضائع ہو رہا تھا۔

میں بےاختیار جھک گیا اور دو پتھر ادھر سے اُدھر کر دیے تاکہ پانی کی دھار کا رخ دوبارہ کھیتوں کی طرف ہو جائے۔

پانی خاموشی سے اپنی درست راہ پر واپس لوٹ آیا۔ کھیت سیراب ہونے لگے۔

میں دیر تک کھڑا یہ منظر دیکھتا رہا۔
پانی کو شاید کسی نے نہیں بتایا تھا کہ وہ فیل ہو چکا ہے۔

گھر پہنچا تو ابو لکڑی کے دروازے کے پاس بیٹھے ایک پرانی شمسی لالٹین کھولے اسے مایوسی سے دیکھ رہے تھے۔

انہوں نے میری طرف دیکھے بغیر کہا،

“جولّے، ستانزن… ذرا اس لالٹین کو تو دیکھو۔”
میں نے بستہ ایک طرف رکھا اور لالٹین اپنے ہاتھ میں لے لی۔

ایک تار ڈھیلی تھی، اور شمسی پینل پر دھول کی باریک تہہ جم گئی تھی۔
چند لمحوں بعد لالٹین دوبارہ روشن ہو گئی۔
ابو کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
انہوں نے ہمیشہ کی طرح صرف اتنا کہا،
“ٹھیک کر دیا…”

بس، اتنی ہی تعریف وہ زندگی بھر کرتے آئے تھے۔
میں نے جیب میں رکھا ہوا رپورٹ کارڈ انہیں نہیں دکھایا۔

مجھ میں ہمت نہیں تھی۔

اس رات، جب پورا گھر سو چکا تھا، میں باہر نکل آیا۔
لداخ کی راتیں عجیب ہوتی ہیں۔

آسمان اتنا صاف ہوتا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے ستارے زمین کے بالکل قریب آ گئے ہوں۔
میں ایک چٹان پر بیٹھ گیا۔

جیب سے پھر وہ کاغذ نکالا۔
پھر آسمان کی طرف دیکھا۔
پھر کاغذ کی طرف۔

مجھے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ شاید کتابوں اور زندگی کے درمیان کوئی ایسی دراڑ، کوئی ایسا فاصلہ ضرور ہے جسے میں دیکھ تو سکتا ہوں، مگر عبور نہیں کر سکتا۔

اگر میں ٹوٹی ہوئی چیزیں جوڑ سکتا ہوں…
اگر میں پانی کا راستہ بدل سکتا ہوں…
اگر میں ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے یہ جان لیتا ہوں کہ آج برف کب نرم ہوگی…
تو پھر میں کیا نہیں جانتا؟
اور اگر میں واقعی کچھ نہیں جانتا…
تو پھر یہ سب مجھے کس نے سکھایا؟

اسی زمانے میں ہمارے علاقے میں ایک نوجوان استاد کے آنے کی خبریں پھیلنے لگیں۔

لوگ کہتے تھے، وہ ایسے بچوں سے ملتے ہیں جنہیں اسکول نے ناکام قرار دیا ہے۔

مگر وہ انہیں ناکام نہیں سمجھتے تھے۔

میں نے اُس وقت ان باتوں پر زیادہ غور نہیں کیا۔

مجھے کیا معلوم تھا کہ چند دن بعد میری زندگی کا سب سے اہم سوال، اور اس کا جواب، خود میرے ہاتھوں میں تھما دیا جائے گا۔
یہ سوال میرے رپورٹ کارڈ پر کہیں بھی نہیں لکھا تھا…
۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *