سادہ سی بات اور لاکھوں زندگیاں محفوظ
شارق علی
ویلیوورسٹی
1840 کی دہائی میں ویانا کے ایک بڑے اسپتال، Vienna General Hospital، میں ایک عجیب المیہ روزمرہ کا معمول بن چکا تھا۔ زچگی وارڈ میں داخل ہونے والی بہت سی مائیں بچے کی پیدائش کے چند دن بعد تیز بخار میں مبتلا ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی تھیں۔ اس بیماری کو “Childbed Fever” کہا جاتا تھا، مگر اس کی وجہ واضح نہیں تھی۔
اسی دوران وہاں ایک نوجوان ہنگرین ڈاکٹر تعینات ہوا—Ignaz Semmelweis۔
اس نے ایک سادہ مگر گہرا مشاہدہ کیا: جس وارڈ میں میڈیکل طلبہ لاشوں کے پوسٹ مارٹم یا ڈسیکشن کے بعد براہِ راست ڈلیوری روم میں آتے تھے، وہاں اموات کی شرح زیادہ تھی۔
اس کے برعکس، دائیوں کے وارڈ میں شرحِ اموات نمایاں طور پر کم تھی، اور دائیوں کو کام شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھونے کی عادت تھی۔
سیمیلوائس نے نتیجہ اخذ کیا کہ لاشوں سے “کچھ ذرات” ڈاکٹروں کے ہاتھوں کے ذریعے مریضوں تک منتقل ہو رہے ہیں۔ اس نے حکم دیا کہ ہر ڈاکٹر اور طالب علم کلورین ملے پانی سے ہاتھ دھوئے بغیر کسی مریض کو نہ چھوئے۔
نتیجہ حیران کن تھا۔ چند ہی مہینوں میں اموات کی شرح ڈرامائی طور پر کم ہو گئی۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اُس زمانے میں جراثیم کے نظریے کو قبولِ عام حاصل نہیں تھا۔ بہت سے سینئر ڈاکٹروں نے اس خیال کو اپنی ذاتی توہین سمجھا. گویا انہیں بیماری پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہو۔ سیمیلوائس کا مذاق اڑایا گیا، اسے نظرانداز کیا گیا، اور آخرکار وہ پیشہ ورانہ تنہائی کا شکار ہو گیا۔
آج دنیا بھر کے اسپتالوں میں ہاتھ دھونا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ جدید انفیکشن کنٹرول کی بنیاد اسی سادہ بصیرت پر قائم ہے۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی سائنسی انقلاب کسی پیچیدہ ایجاد یا عظیم مشین سے نہیں، بلکہ صابن اور پانی جیسے سادہ عمل سے شروع ہوتا ہے اور لاکھوں زندگیاں بچا لیتا ہے۔
