تہران کی سلیکون ویلی — باوقار خودمختاری کی بنیاد
شارق علی
ویلیوورسٹی
تہران کے قریب قائم Pardis Technology Park کو اکثر ایران کی Silicon Valley کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک ٹیکنالوجی پارک نہیں بلکہ ایک منظم سائنسی ماحولیاتی نظام ہے، جہاں سینکڑوں علم پر مبنی کمپنیاں اور ہزاروں ماہرین و محققین ایک ہی مقام پر مل کر نئے تصورات کو قابلِ استعمال مصنوعات میں ڈھالتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس پارک کا ابتدائی رقبہ تقریباً 145 ہیکٹر تھا، اور اسے مزید وسعت دینے کے منصوبے بھی جاری ہیں۔ یہاں دفاعی ٹیکنالوجی، آئی سی ٹی، بایوٹیکنالوجی، نینو ٹیکنالوجی، جدید انجینئرنگ اور ہیلتھ ٹیک جیسے شعبوں میں مسلسل اور منظم کام ہو رہا ہے۔
اس ادارے کا مقصد صرف تحقیقی مقالے شائع کرنا نہیں، بلکہ تحقیق کو عملی زندگی اور مارکیٹ اکانومی تک پہنچانا ہے—یعنی لیبارٹری سے صنعت تک کا مکمل سفر ایک ہی جگہ ممکن بنایا گیا ہے۔
آج ایران جس حد تک اپنے سیاسی اور معاشی مؤقف پر نسبتاً خود انحصاری کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے، اس خودمختاری کے پس منظر میں سب سے نمایاں عنصر سائنس اور ٹیکنالوجی کی اسٹریٹجک اہمیت کو تسلیم کرنا ہے۔ جب کوئی ملک طویل معاشی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی ادویات، انجینئرنگ مصنوعات، ڈیجیٹل سروسز اور دفاعی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، تو عالمی سطح پر اس کی بات مختلف انداز میں سنی جاتی ہے۔
یہی اصل سبق ہم پاکستانیوں، خصوصاً نوجوانوں کے لیے ہے۔ قومی وقار کا تعلق محض جذباتی نعروں سے نہیں، بلکہ سائنسی و تکنیکی صلاحیت سے ہے۔ جو قوم تحقیق میں سرمایہ کاری کرتی ہے، نوجوانوں کو انکیوبیشن مراکز فراہم کرتی ہے اور آئیڈیاز کو کاروبار میں تبدیل کرنے کا نظام قائم کرتی ہے، وہی پائیدار خودمختاری حاصل کرتی ہے۔
پیغام واضح ہے: اگر ہم عزت اور وقار کے ساتھ عالمی صف میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں تو سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور جدید تحقیق کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ قومیں سڑکوں سے نہیں، لیبارٹریوں اور کوڈنگ سینٹرز سے مضبوط بنتی ہیں۔
