تہذیب کا گہوارہ: میسوپوٹیمیا
شارق علی
ویلیوورسٹی
دجلہ اور فرات کے درمیان پھیلے زرخیز میدانوں میں، آج سے پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے، انسانی تاریخ کی ایک عظیم اور فیصلہ کن تہذیب نے جنم لیا تھا۔
میسوپوٹیمیا۔ اس نام کا مطلب ہی دریاؤں کے درمیان کی سرزمین ہے۔ یہی وہ خطہ تھا جہاں انسان نے سادہ زرعی بستیوں سے نکل کر منظم شہروں اور ریاستوں کی بنیاد رکھی۔ یہ دراصل انسانی تہذیبی تاریخ کی پہلی بڑی چھلانگ تھی۔
میسوپوٹیمیا کے ابتدائی باشندوں نے دریاؤں کے پانی کو قابو میں کرنا سیکھا۔ نہریں اور آبپاشی کے نظام قائم کیے گئے، جس کے نتیجے میں فصلیں وافر ہوئیں اور آبادی میں اضافہ ہوا۔ اسی عمل نے اُر، اُروک، لاگاش اور بابل جیسے شہر پیدا کیے، جو صرف طاقت کے مراکز نہیں تھے بلکہ علم، ثقافت اور تہذیب کے سرچشمے بھی تھے۔
اس تہذیب نے انسانیت کو وہ تحفے دیے جو آج بھی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ میخی رسم الخط دنیا کا پہلا تحریری نظام تھا، جسے مٹی کی تختیوں پر کندہ کیا جاتا تھا۔
حمورابی کا قانون انسانی تاریخ کے اولین تحریری قوانین میں شمار ہوتا ہے، جس میں انصاف کے اصول واضح صورت میں سامنے آتے ہیں۔
فلکیات اور ریاضی کے علوم میں بھی میسوپوٹیمیا نے بنیادی کردار ادا کیا۔
دائرے کو 360 درجوں میں تقسیم کرنا، اور منٹ و سیکنڈ کا نظام، اسی دور کی یادگار ہیں۔
زیگورات، یعنی سیڑھی دار مندروں کی شکل میں بنے عظیم معبد، مذہبی اور سیاسی طاقت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔
میسوپوٹیمیا میں مذہب اور اقتدار ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے تھے۔ دیوتاؤں کا ایک مکمل نظام موجود تھا، اور بادشاہ خود کو زمین پر ان دیوتاؤں کا نمائندہ تصور کرتے تھے۔
وقت کے ساتھ سومیری، اکادی، بابلی اور اسوری اقوام آئیں اور گئیں، مگر ان سب نے تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔
آج جب ہم وقت ناپتے ہیں، سماجی قوانین بناتے ہیں، یا حساب لگاتے ہیں، تو دراصل ہم میسوپوٹیمیا کی وراثت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
میسوپوٹیمیا محض ایک قدیم تہذیب نہیں تھی، بلکہ یہ انسانی تاریخ کی پہلی عظیم درسگاہ تھی۔
