Skip to content
Home » Blog » انسانی وقار کی ترجمان ایک تصویر

انسانی وقار کی ترجمان ایک تصویر

  • by

انسانی وقار کی ترجمان ایک تصویر

شارق علی
ویلیوورسٹی

ممبئی کے شیواجی پارک میں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران ایک منظر نے دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ ستائیس سالہ ریا اہیر پولیس کی اس وین کے سامنے کھڑی ہو گئیں جس میں حراست میں لیے گئے مظاہرین موجود تھے۔ بارش میں بھیگتے ہوئے، انہوں نے وین کا راستہ روکا اور مطالبہ کیا کہ طلبہ کے ساتھ قانون اور انصاف کے مطابق برتاؤ کیا جائے۔ اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی نمایاں ہوئیں اور انسانی حقوق، شہری آزادی اور پرامن احتجاج کے حق پر ایک نئی بحث کا آغاز بنیں۔

انسانی حقوق کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر انسان، خواہ اس کے خیالات یا نظریات کچھ بھی ہوں، قانون کے سامنے یکساں احترام اور وقار کا مستحق ہے۔ اسی لیے دنیا کی جمہوری روایات میں پرامن احتجاج کو شہری آزادی کا ایک اہم اظہار سمجھا جاتا ہے، جبکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کے بنیادی حقوق کا بھی تحفظ کرے۔

ریا اہیر کا اقدام ہمیں کسی سیاسی جماعت یا نظریے کی حمایت نہیں، بلکہ ایک آفاقی سبق دیتا ہے۔ جب کوئی شخص خوف کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے تو وہ دوسروں کو بھی اپنے ضمیر کی آواز سننے کا حوصلہ دیتا ہے۔ تاریخ میں معاشروں کی حقیقی ترقی صرف معاشی کامیابیوں سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی ناپی جاتی ہے کہ وہ اختلافِ رائے، انصاف اور انسانی وقار کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ یہی احترام ایک مضبوط، مہذب اور پُرامن معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان، اساتذہ، صحافی، ڈاکٹر، وکیل اور عام شہری اپنی روزمرہ زندگی میں انسانی وقار، انصاف اور قانون کی پاسداری کے لیے کون سا ایسا مثبت اور پُرامن قدم اٹھا سکتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے امید کی ایک نئی مثال بن جائے؟ شاید کسی معاشرے کی اصل تبدیلی ہمیشہ ایک ایسے ہی بہادر انسان سے شروع ہوتی ہے جو صحیح وقت پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے حق، انصاف اور انسانیت کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *