Skip to content
Home » Blog » اصل ذہانت، میٹا کوگنیشن

اصل ذہانت، میٹا کوگنیشن

اصل ذہانت، میٹا کوگنیشن

شارق علی
ویلیوورسٹی

ایک استاد نے اپنے شاگرد سے پوچھا:
“جب تم غصے میں آ جاتے ہو تو کیا ہوتا ہے؟”
شاگرد نے جواب دیا:
“میں فوراً ردِعمل دیتا ہوں، اور بعد میں سوچتا ہوں کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔”
استاد مسکرایا اور بولا:
“اصل ذہانت یہ نہیں کہ انسان بہت زیادہ جانتا ہو، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود اپنی سوچ کو دیکھ سکے، اسے سمجھ سکے، اور چاہے تو تبدیل کر سکے۔”

انسانی ذہن کی ایک حیرت انگیز صلاحیت ہے جسے ماہرین میٹاکاگنیشن (Metacognition) کہتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں اس کا مطلب ہے اپنی سوچ کے بارے میں سوچنا۔ یعنی اپنے خیالات، فیصلوں اور جذبات کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر دیکھنا اور جانچنا۔ گویا انسان اپنے ذہن کے اندر ہونے والی گفتگو کا خاموش مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔

نیورو سائنس کی جدید تحقیق بتاتی ہے کہ اس صلاحیت میں دماغ کا ایک اہم حصہ یعنی پری فرنٹل کارٹیکس (Prefrontal Cortex) کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جو منصوبہ بندی، فیصلہ سازی اور اپنے رویوں کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جب انسان اپنی سوچ پر غور کرتا ہے تو دراصل یہی حصہ زیادہ فعال ہو جاتا ہے۔

اکثر لوگ اپنے خیالات اور جذبات کے بہاؤ میں بہہ جاتے ہیں۔ غصہ آئے تو فوراً ردِعمل، خوف آئے تو فوراً گھبراہٹ۔ لیکن جس شخص میں میٹاکاگنیشن کی صلاحیت ہوتی ہے وہ رک کر خود سے سوال کرتا ہے:
میں ایسا کیوں سوچ رہا ہوں؟
کیا میرا یہ خیال درست ہے؟
کیا اس کیفیت پر ردِعمل کا کوئی بہتر طریقہ بھی ہو سکتا ہے؟

اسی لمحے انسان اپنے ذہن کا اسیر نہیں رہتا بلکہ اس کا رہنما بن جاتا ہے۔

اصل ذہانت یہی ہے کہ انسان اپنی سوچ اور ذہنی کیفیات کو واضح طور پر دیکھ سکے، اسے سمجھ سکے اور چاہے تو تبدیل کر سکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *