آئی وے وے Ai Weiwei فن، سچ اور انسانی ضمیر
شارق علی
ویلیوورسٹی
آئی وے وے ہمارے عہد کے اُن چند نمایاں اذہان میں شمار ہوتے ہیں جن کے نزدیک فن محض خوب صورتی یا تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ہر حال میں سچ بولنے کی ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ وہ روایتی معنوں میں شاعر نہیں، مگر ان کے فن، تحریر اور طرزِ فکر میں ایسی معنوی گہرائی پائی جاتی ہے جو شاعری کی طرح قاری کے دل اور اس کے ضمیر کو بیک وقت مخاطب کرتی ہے۔ وہ بیک وقت فنکار بھی ہیں، مفکر بھی، اور اپنے زمانے کے سچ کے گواہ بھی۔
آئی وے وے 1957 میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آئی چِنگ ایک معروف چینی شاعر تھے، جنہیں اپنے سیاسی نظریات کے باعث ریاستی جبر، تذلیل اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ بچپن میں خاندان کے ساتھ جلاوطنی، محرومی اور عدم تحفظ کے تجربات نے آئی وے وے کے اندر یہ گہرا شعور پیدا کیا کہ طاقت کا مقابلہ خاموشی سے نہیں بلکہ سوال اٹھانے اور سچائی پر قائم رہنے سے کیا جاتا ہے۔ یہی شعور آگے چل کر ان کے فن اور فکر کی بنیاد بنا۔
انہوں نے چین میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں امریکہ میں فنونِ لطیفہ کی باقاعدہ تربیت لی۔ وہاں آزادیِ اظہار، فرد کی خودمختاری اور انسانی حقوق جیسے تصورات سے ان کی فکری ساخت مزید مضبوط ہوئی۔ چین واپسی پر انہوں نے روایتی فن کے سانچوں کو توڑتے ہوئے ایسا فن تخلیق کیا جو صرف دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ سوچنے، چونکنے اور سوال کرنے کے لیے ہے۔
ان کے مشہور فن پاروں میں لاکھوں ہاتھ سے بنے چینی مٹی کے بیجوں پر مشتمل تنصیب خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
یہ فن پارہ بظاہر ایک وسیع اور سادہ منظر پیش کرتا ہے، مگر درحقیقت ہر بیج ایک فرد کی علامت ہے۔ اجتماعی ہجوم میں دبے ہوئے ان انفرادی وجودوں کے ذریعے آئی وے وے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ہم انسان کو صرف ایک عدد، ایک ہجوم یا ایک شماریاتی اکائی سمجھنے لگے ہیں؟
اسی طرح زلزلے کے متاثرین کے ناموں اور کوائف پر مبنی ان کی تنصیبات محض یادگاریں نہیں بلکہ ریاستی بے حسی کے خلاف ایک خاموش مگر طاقتور احتجاج ہیں۔
ان فن پاروں میں متاثرین کے نام نمایاں کر کے وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ ریاستی رپورٹوں اور اعداد و شمار سے کہیں زیادہ اہم ہر ایک انسان کی جان، شناخت اور وقار ہے۔
آئی وے وے کے کام کی اصل طاقت اس کی اخلاقی جرأت میں پوشیدہ ہے۔ جہاں ریاستیں سچ کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ اسے سامنے لاتے ہیں۔ جہاں معاشرہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے، وہاں وہ سوال اٹھاتے ہیں۔ اسی بے خوفی کے باعث انہیں قید، مسلسل نگرانی، اسٹوڈیو کی مسماری اور جلاوطنی جیسے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے کبھی اپنے مؤقف پر سمجھوتا نہیں کیا۔ ان کے نزدیک آزادیِ اظہار کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ جدید انسانی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
آئی وے وے کی آواز صرف چین تک محدود نہیں رہتی۔ وہ دنیا کے ہر اُس خطے کی بات کرتے ہیں جہاں انسان کی آواز دبائی جاتی ہے۔ چاہے مہاجرین کے کیمپ ہوں، جدید نگرانی کے نظام ہوں، یا طاقت کے نام پر انسانی وقار کی پامالی، وہ ان سب کو اپنے فن اور تحریر کا موضوع بناتے ہیں۔ اس طرح وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ضمیر کی وابستگی سرحدوں، قومیتوں اور نظریاتی خانوں سے آزاد ہوتی ہے۔
عام قاری کے لیے آئی وے وے کی اہمیت اس یقین میں مضمر ہے کہ ایک فرد بھی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ وہ سچ کے ساتھ کھڑا ہو۔ ان کا فن دیکھنے والے کو محض متاثر نہیں کرتا بلکہ اسے سوچنے، سوال کرنے اور اپنی اخلاقی ذمہ داری پہچاننے پر مجبور کرتا ہے۔
ویلیوورسٹی کے تناظر میں آئی وے وے کی زندگی اور کام ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ تعلیم صرف معلومات کے انبار کا نام نہیں بلکہ اقدار کی پہچان ہے۔ سچ، انصاف اور انسان کی حرمت وہ بنیادی قدریں ہیں جن کی نمائندگی آئی وے وے اپنے فن اور فکر کے ذریعے کرتے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر فن سچ نہ بولے تو وہ محض سجاوٹ بن کر رہ جاتا ہے، اور اگر انسان خاموش رہے تو ناانصافی معمول بن جاتی ہے۔
یہ تحریر اسی امید کے ساتھ پیش کی جاتی ہے کہ قاری آئی وے وے کے کام سے واقف ہو، اس کی معنویت سمجھے، اور اپنے اندر یہ سوال پیدا کرے کہ میں اپنے وقت میں سچ اور انسانیت کے لیے کیا کردار ادا کر رہا ہوں؟
