Skip to content
Home » Blog » سماجی زخموں کی مسیحا

سماجی زخموں کی مسیحا

سماجی زخموں کی مسیحا

ڈاکٹر سمیعہ سید طارق

شارق علی
ویلیوورسٹی

کراچی میں اگست کا مہینہ ہے اور سن 2023۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کے ایک حصے میں ایک نئے طبی یونٹ کا افتتاح ہونے والا تھا۔ اس کا مقصد کسی بیماری کا علاج کرنا نہیں تھا۔
یہاں آنے والے جسمانی بیماری کے نہیں، سماجی المیے کے زخمی تھے۔

یہ پاکستان کے پہلے اینٹی ریپ کرائسس سیل کا قیام تھا۔

اس روز وہاں موجود لوگوں میں ایک خاتون ڈاکٹر بہت نمایاں تھیں۔ ان کے لیے یہ محض ایک نئے ادارے کا افتتاح نہیں تھا، بلکہ اس مقام تک پہنچنے کے پیچھے ان کی زندگی کے تقریباً پچیس برس، بے شمار میڈیکو لیگل معائنے، پوسٹ مارٹمز، عدالتوں کے چکر اور جنسی و گھریلو تشدد کا شکار ہونے والے انسانوں سے ملاقاتیں شامل تھیں۔
ان خاتون کا نام ڈاکٹر سمیعہ سید طارق تھا۔

یہاں اس سوال کا ایک متبادل عملی جواب بھی موجود تھا کہ مسیحا کسے کہتے ہیں؟

عموماً مسیحا اس ڈاکٹر کو سمجھا جاتا ہے جو بیماری کو پہچانتا، دوا تجویز کرتا یا آپریشن کرکے کسی انسان کی جان بچاتا ہے۔

لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ معاشرہ بیمار ہو۔ سماج زخمی ہو۔ تشدد، ناانصافی، تعصب اور بے حسی بیماریاں اور زخم نہیں تو اور کیا ہیں؟

کچھ انوکھے، جرأت مند ڈاکٹر ان بیماریوں اور زخموں کے علاج کے لیے بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر سمیعہ نے 1996 میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ چند برس بعد ان کا پیشہ ورانہ سفر انہیں طب کے ایک ایسے گوشے میں لے آیا جہاں شاید بہت سے نوجوان ڈاکٹر جانا بہت کٹھن محسوس کرتے ہیں:

فارنزک اور میڈیکو لیگل میڈیسن۔

یہاں مریضوں کی قطار عام کلینک جیسی نہیں ہوتی۔

کبھی سامنے تشدد کا شکار عورت ہوتی ہے، کبھی جنسی زیادتی سے گزرا ہوا بچہ، کبھی قتل یا خودکشی کی حقیقت جاننے کے لیے ایک خاموش لاش۔ ڈاکٹر کو جسم پر موجود نشانات پڑھنے ہوتے ہیں، شواہد محفوظ کرنے ہوتے ہیں اور پھر کبھی عدالت میں کھڑے ہو کر انہی شواہد کی زبان بننا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ نے اسی مشکل دنیا کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی بنا لیا۔

بعد میں انہوں نے ڈپلومہ اِن میڈیکل جیورس پروڈنس حاصل کیا اور بائیو ایتھکس کی باقاعدہ تعلیم بھی حاصل کی۔ یہی امتزاج ، سائنس، قانون اور اخلاقیات ، آگے چل کر ان کے کام کی پہچان بن گیا۔

اپنے ابتدائی میڈیکو لیگل دور میں وہ بھی جنسی زیادتی کے مقدمات میں رائج ایک فرسودہ طریقۂ معائنہ، ٹو فنگر ٹیسٹ، کا حصہ رہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسے میڈیکو لیگل نظام کا معمول سمجھا جاتا تھا۔

پھر علم آگے بڑھا۔
یہ واضح ہوتا گیا کہ اس معائنے کی سائنسی بنیاد ناقص ہے اور یہ کسی عورت کے ساتھ جنسی زیادتی ہونے یا نہ ہونے کا قابلِ اعتماد ثبوت نہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ متاثرہ عورت کی عزتِ نفس کو مزید مجروح کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ نے اپنی پریکٹس تبدیل کر دی اور اس فرسودہ طریقے کی مخالفت کی۔ دوسرے میڈیکو لیگل ڈاکٹروں کو بھی اس بارے میں تربیت دی۔ یوں وہ ایک زیادہ سائنسی اور باوقار نظام کے قیام کی آواز بن گئیں۔

یہاں ڈاکٹروں کی زندگی کا ایک اہم سبق موجود ہے۔

علم کا وقار اس بات میں ہے کہ بہتر ثبوت سامنے آئیں تو ہم اپنی پرانی روش بدلنے کی ہمت رکھتے ہوں۔
وقت کے ساتھ ان کا کام معائنے کے کمرے تک محدود نہیں رہا۔

وہ عدالتوں تک پہنچیں، ججوں اور ڈاکٹروں کی تربیت میں شریک ہوئیں، سندھ میں میڈیکو لیگل اصلاحات سے وابستہ رہیں اور اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے عملی نفاذ سے متعلق کام میں حصہ لیا۔ عدالتوں میں ضرورت پڑنے پر امیکس کیوری، یعنی عدالتی معاون، کی حیثیت سے اپنی ماہرانہ رائے بھی پیش کی۔
2022 میں وہ کراچی کی پولیس سرجن مقرر ہوئیں۔

عہدے سے زیادہ اہم وہ تبدیلی تھی جو ان کے کام کے حوالے سے وجود میں آئی:

جنسی تشدد کا شکار عورت کو ایک جگہ طبی معائنہ کرانے، دوسری جگہ پولیس سے رابطہ کرنے، پھر کہیں اور قانونی اور نفسیاتی مدد تلاش کرنے کے بجائے ایسا نظام کیوں نہ دیا جائے جہاں ریاست خود اس کے گرد اپنی خدمات جمع کر دے؟

اسی سوچ کی عملی شکل 2023 میں ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کراچی میں قائم ہونے والا پاکستان کا پہلا اینٹی ریپ کرائسس سیل تھا۔

یہ صرف ایک کمرہ نہیں تھا، بلکہ ایک نئے رویے کا اعلان تھا:

متاثرہ انسان نظام کے پیچھے نہیں بھاگے گا۔ نظام اس کی مدد کے لیے اس کے گرد جمع ہوگا۔

ڈاکٹر سمیعہ کا سفر یہاں نہیں رکا۔
انہوں نے میڈیکو لیگل افسران کی نئی نسل کی تربیت میں حصہ لیا۔ ان کے کام کا دائرہ عدلیہ تک پہنچا، جہاں وہ ججوں کو میڈیکو لیگل اور فارنزک شواہد سمجھانے والی تربیت کا حصہ بنیں۔ پاکستان کے باہر بھی فارنزک اور میڈیکو لیگل حلقوں میں ان کا علمی کام پیش ہوا۔
تحقیق بھی ساتھ چلتی رہی۔

خودکشی، آوارہ گولیوں سے ہونے والے جانی نقصان اور موٹر سائیکل حادثات میں ہیلمٹ کے اثرات جیسے موضوعات پر ان کا نام تحقیقی مطالعات میں سامنے آیا۔
اس سفر نے ایک اور کمزور طبقے کی طرف رخ کیا: بچے۔

2026 میں کراچی میں چائلڈ فرینڈلی میڈیکو لیگل کلینکس کے قیام کا سلسلہ شروع ہوا، تاکہ تشدد اور استحصال کا شکار بچے کو ایسے سرد اور خوفناک ماحول میں اپنا معائنہ نہ کرانا پڑے جو اس کے صدمے کو مزید گہرا کر دے۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کا وہ نیا اینٹی ریپ کرائسس سیل اس مشن میں بھی معاون ثابت ہوا۔

سماجی زخم گہرے ہوتے ہیں۔

کچھ زخم قانون میں ہوتے ہیں۔
کچھ اداروں میں۔
کچھ روایتوں میں۔
اور کچھ ہمارے اجتماعی رویوں میں۔

طب کی سب سے خوبصورت تعریف شاید یہی ہے کہ جہاں انسانی تکلیف ہو، وہاں کسی نہ کسی صورت میں شفا کا موجود ہونا ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *