گھنٹی کے بغیر اسکول
دوسری کہانی
شارق علی
ویلیوورسٹی
نوٹ: (یہ چار کہانیوں پر مشتمل ایک ادبی غیر افسانوی (Literary Non-fiction) سلسلہ ہے، جو لداخ کے معروف ماہرِ تعلیم سونم وانگچک اور ان کے تعلیمی ادارے SECMOL سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ اس کا اندازِ بیان ادبی ہے، جبکہ تعلیمی فلسفہ، ماحول اور بنیادی معلومات حقیقی ہیں۔)
جب میں پہلی بار وہاں پہنچا تو مجھے کسی چیز کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔
وہاں خاموشی تھی اور سکون۔
پھر کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ یہاں گھنٹی نہیں ہے۔
ہر اسکول میں گھنٹی ہوتی ہے۔
یہاں نہیں تھی۔
میں دیر تک کھڑا اِدھر اُدھر دیکھتا رہا۔
کوئی دوڑتا ہوا کلاس میں نہیں جا رہا تھا۔
کوئی استاد ہاتھ میں رجسٹر لیے بچوں کو ڈانٹ نہیں رہا تھا۔
کسی کے چہرے پر کوئی جلدی نہیں تھی۔
پھر بھی ہر کوئی کسی نہ کسی کام میں مصروف تھا۔
ایک لڑکی باورچی خانے میں روٹیاں بنا رہی تھی۔
دو لڑکے چھت پر چڑھ کر شمسی پینل صاف کر رہے تھے۔
کچھ بچے سبزیوں کے باغ میں پانی دے رہے تھے۔
ایک کونے میں چند طالب علم بیٹھے کسی مسئلے پر بحث کر رہے تھے۔
میں نے حیرت سے سوچا…
اس اسکول میں کلاس روم آخر ہے کہاں؟
اسی وقت پیچھے سے ایک آواز آئی۔
“جولّے، ستانزن!”
میں نے مڑ کر دیکھا۔
سونم وانگچک کھڑے مسکرا رہے تھے۔
انہوں نے میرے چہرے پر حیرت پڑھ لی تھی۔
“تم کلاس ڈھونڈ رہے ہو نا؟”
میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
وہ ہنس دیے۔
“پہلے زندگی دیکھو، پھر کلاس بھی مل جائے گی۔”
میں ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔
راستے میں انہوں نے کسی کو کوئی حکم نہیں دیا۔
صرف سوال پوچھتے رہے۔
“آج پانی کا ذخیرہ کتنا ہے؟”
“شمسی بیٹریاں پوری طرح چارج ہو گئیں؟”
“مہمانوں کے لیے کمرہ تیار ہے؟”
اور ہر سوال کا جواب کسی استاد نے نہیں، کسی طالب علم نے دیا۔
مجھے عجیب لگا۔
یہاں بچے صرف پڑھتے نہیں تھے۔
یہاں ان پر اعتماد بھی کیا جاتا تھا۔
دوپہر کے کھانے کے وقت میں نے اپنی پلیٹ اٹھائی اور کھانا کھایا۔
کھانا ختم ہوا تو میں پلیٹ وہیں رکھ کر جانے لگا۔
ایک لڑکے نے مسکرا کر کہا،
“ستانزن… یہاں ہر آدمی اپنی پلیٹ خود دھوتا ہے۔”
میں شرمندہ سا واپس لوٹا۔
پلیٹ دھونے میں شاید دو منٹ لگے ہوں گے۔
لیکن مجھے لگا جیسے میں نے دو منٹ میں کوئی نیا سبق سیکھ لیا ہو۔
شام ڈھلنے لگی۔
پہاڑوں پر سنہری روشنی پھیل رہی تھی۔
میں نے دیکھا، صبح جن بچوں کو میں چھت پر شمسی پینل صاف کرتے دیکھ رہا تھا، وہی اب ایک چھوٹے سے گروہ کو ریاضی سمجھا رہے تھے۔
میں نے حیرت سے پوچھا،
“یہ استاد ہیں؟”
سونم وانگچک نے میری طرف دیکھا۔
“نہیں۔”
“پھر؟”
“آج یہ سکھا رہے ہیں۔
کل یہ سیکھیں گے۔”
میں دیر تک اس جملے کے بارے میں سوچتا رہا۔
میرے پرانے اسکول میں استاد ہمیشہ استاد تھے۔
اور طالب علم ہمیشہ طالب علم۔
یہاں دونوں کے درمیان دیوار کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی۔
رات کو میں ہاسٹل کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔
ہوا میں عجیب سی ٹھنڈک تھی۔
لیکن میرے اندر ایک نئی گرمی محسوس ہو رہی تھی۔
مجھے پہلی مرتبہ لگا کہ تعلیم صرف وہ نہیں جو کتاب کے صفحات پر لکھی ہو۔
شاید تعلیم وہ بھی ہے…
جب کوئی تم پر اتنا اعتماد کرے کہ ایک دن باورچی خانے کی ذمہ داری تمہیں دے دے…
دوسرے دن بجلی کے نظام کی…
اور تیسرے دن کسی دوسرے انسان کو سکھانے کی۔
میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔
ستارے آج بھی وہی تھے۔
صرف میں بدلنے لگا تھا۔
اور شاید…
یہی اس اسکول کا اصل سبق تھا۔
