Skip to content
Home » Blog » املل ابشار, نویں قسط

املل ابشار, نویں قسط

  • by

املل ابشار, نویں قسط

مراکش کے رنگ

شارق علی
ویلیوورسٹی

تیزی سے بہتی ندی کے ساتھ چڑھائی چڑھتے ہم تھک چکے تھے۔ کچھ دیر سنگلاخ چٹانوں پر بیٹھ کر سانس سنبھالی۔ پھر ہائی ایٹلس پہاڑوں کا رخ کیے ہم سر جھکائے

چڑھائی چڑھنے لگے۔ پانی گرنے کی دھیمی آواز اب دھیرے دھیرے بلند ہوتی چلی جا رہی تھی۔ ایک موڑ مڑے تو ہماری منزل سامنے تھی۔

واجبی سی اونچی سنگلاخ چٹانوں کے سوتوں سے نکلتا تیز دھار پانی۔ پھر چھوٹے چھوٹے بہتے دھاروں کا ایک دوسرے سے مل کر ایک ندی کی صورت اختیار کر لینا۔

تیز رفتار ندی کی تراشی ہوئی چٹانیں کناروں پر چھوٹی چھوٹی سلوں کی صورت بکھری ہوئی تھیں۔ تیزی سے نیچے کو گرتی آبشار، بل کھاتی، پھسلتی، تیزی سے نیچے اترتی اور تیز رفتار بہتی ندی. یہ سب کچھ مل کر ایک حیران کن منظر پیش کر رہا تھا۔

شفاف پانی سیاہ اور بھورے پتھروں سے ٹکرا کر سفید جھاگ بناتا، پھر چھوٹے پتھروں پر اچھلتا کودتا دوبارہ شفاف دھار میں بدل جاتا۔ سورج کی روشنی ہوا میں معلق بوندوں پر پڑتی تو یوں لگتا جیسے ہوا میں باریک شیشے کے ذرات معلق ہوں. سات رنگوں کی دھنک کے معلق ذرات۔
آبشار کے سامنے پتھریلا صحن نما علاقہ تھا۔ یہاں تین چار ٹھیلے والے تازہ سنگترے سجائے ان پھلوں کا تازہ رس نکال کر سیاحوں کو بیچ رہے تھے۔

اس چھوٹی سی جگہ پر بھانت بھانت کے ملکوں، نسلوں اور رنگوں کے سیاح موجود تھے اور مختلف زبانوں میں کی جانے والی گفتگو سنائی دے رہی تھی۔
ماحول دوستانہ تھا۔

مہذب لہجوں میں نرمی اور ایک دوسرے کے لیے دلچسپی اور احترام تھا۔ تصویر کھینچتے وقت لوگ ایک دوسرے کو بہتر پس منظر کا موقع دیتے۔ بخوشی ایک دوسرے کی تصویریں کھینچتے نظر آتے۔

میں اور مونا ایک چٹان کو نشست بنا کر اورنج جوس سے لطف اندوز ہونے لگے۔ پانی کی آواز میں تسلسل تھا، جیسا زندگی کے بہاؤ میں ہے۔ انسانی آرزوؤں میں ہے۔
فطری خوبصورتی شاید انسانوں کو قریب کر دیتی ہے۔

سیاحوں کے ان مختلف گروہوں کی بیشتر گائیڈ بربر نوجوان لڑکیاں تھیں۔

وہ بڑے اعتماد کے ساتھ سیاحوں کا سارا انتظام سنبھالے ہوئے تھیں۔ ایک گائیڈ لڑکی اپنے گروپ کے سیاحوں کو تازہ جوس پیش کر رہی تھی۔ اگرچہ اس نے مشرقی روایتی لباس پہنا ہوا تھا لیکن انداز و اطوار میں بلا کی خود اعتمادی تھی۔ سٹال پر جوس بیچنے والے مقامی مرد تھے لیکن کسی بھی قسم کی بد تہذیبی کا مظاہرہ موجود نہ تھا۔

مقامی لڑکے اور لڑکیاں بلا جھجھک ایک دوسرے سے پُراعتماد گفتگو کر رہے تھے۔ ہمیں یہ باوقار سادگی، ماحول کی شائستگی اور پروفیشنلزم بہت اچھا لگا۔

املل ابشار پر کچھ وقت گزارنے کے بعد اب ہم واپسی کے سفر میں تھے۔ اترائی کا سفر نسبتاً آسان لگا۔

آخر کار ہم اس ہوٹل تک پہنچ گئے جہاں ہماری وین کھڑی تھی۔ وہاں ہمارے لیے لنچ کا انتظام کیا گیا تھا۔

یہ ہوٹل تین منزلہ تھا اور اس کی چھت کو غالباً اوپن ایئر ریستوران کی طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ سب سیاح چھت پر لگائی گئی میزوں پر جا بیٹھے۔ اردگرد کا منظر نہایت منفرد تھا۔ اردگرد کے بلند پہاڑوں کی چوٹیاں گویا ہمیں گھیرے ہوئے تھیں۔ یہ بلند اور بنجر پہاڑ تھے۔ ان پر گھنے جنگلات نہیں تھے۔ ان کی مٹیالی اور خشک ڈھلوانیں ایک منفرد اور سنجیدہ حسن رکھتی تھیں۔

انہی بلند و خشک پہاڑوں کے درمیان یہ چھوٹا سا ہوٹل کسی قدیم سرائے کی صورت موجود تھا، اور ہم سب مسافر اس کی پناہ میں تھے۔
پھر وہاں روایتی مراکشی کھانا تجین (Tagine) پیش کیا گیا۔

تجین دراصل مٹی کے ایک خاص برتن کا نام ہے۔ اسی میں پکنے والے کھانے کو بھی یہی نام دے دیا گیا ہے۔ یہ برتن گول ہوتا ہے اور اس کا ڈھکن مخروطی شکل کا ہوتا ہے۔ اسی منفرد ساخت کی وجہ سے کھانا بہت آہستگی سے بھاپ میں پکایا جاتا ہے۔
ہمیں جو تجین پیش کیا گیا اس میں چکن، آلو، گاجر، لوبیا اور دیگر سبزیاں شامل تھیں۔ ان سب کو زیتون کے تیل میں لیموں اور ہلکے مصالحے کے ساتھ پکایا گیا تھا۔ مصالحہ بہت تیز نہیں تھا۔ اجزا کی خوشبو، مٹی کے برتن اور آہستہ آہستہ پکنے کے عمل کی وجہ سے چکن اس قدر نرم تھا کہ ہلکے سے دباؤ سے ٹوٹ جاتا تھا، اور سبزیاں اس کے شوربے میں پک کر ایک خاص ذائقہ اور لطافت اختیار کر چکی تھیں۔

کھلے آسمان کے نیچے، چاروں طرف پہاڑوں کا سناٹا، ٹھنڈی ہوا، اور گرما گرم مراکشی کھانا — یہ لنچ ہمارے سفر کی ایک یادگار ضیافت بن گیا۔

کھانا ختم کرنے کے بعد ہم نے اپنی وین کا رخ کیا۔ ہائی ایٹلس کے بلند پہاڑوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اب ہم واپسی کے سفر پر تھے۔
۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *