رائل اوپرا تھیٹر، دوسری قسط
مراکش کے رنگ (سفرنامہ)
شارق علی
ویلیو ورسٹی
جہاز Marrakesh Menara Airport پر اُترا تو صبح کے تقریباً دس بج رہے تھے۔ عمارت کسی حد تک یورپی طرز کی ہے، لیکن کہیں کہیں اپنی ساخت اور ماحول میں مراکش کی روایتی تہذیب کی ہلکی سی جھلک بھی نظر آ جاتی ہے۔ دیواروں اور کھڑکیوں کے شیشوں پر ہلکے رنگ کے نقش و نگار، اونچی چھتیں اور کشادہ ہال، اور طرزِ تعمیر میں قدرتی روشنی کا بھرپور استعمال۔ یہ سب مل کر ایسا تاثر دیتے ہیں کہ آپ محسوس کر لیتے ہیں کہ آپ افریقہ، عرب دنیا اور یورپ کے سنگم پر کھڑے ہیں۔
امیگریشن اور پاسپورٹ کنٹرول نسبتاً منظم تھا۔ عملہ سنجیدہ مگر قدرے سست رفتار۔ سامان کے انتظار کا مرحلہ جلد ختم ہو گیا، اور ہم کارروائی مکمل کر کے ایئرپورٹ کے کھلے صحن میں آ گئے۔
ایئرپورٹ کے اندر کرنسی ایکسچینج کی سہولت موجود تھی۔ فوری ضرورت کے لیے مقامی کرنسی حاصل کی۔ یوں تو آج کل ہر جگہ کارڈ کا استعمال قابلِ قبول ہے، لیکن فوری سہولت اور ذہنی اطمینان کے لیے ایسا کرنا مناسب لگا۔
باہر نکلتے ہی ایئرپورٹ ٹیکسیاں دستیاب تھیں۔ مقامی ڈرائیور نہایت شایستہ اور ہوٹل سے خوب واقف نکلا۔ سامان رکھا اور ہم مراکش شہر کی جانب روانہ ہو گئے۔
مضافات کی فضا، ہوا اور سڑکوں کے کنارے لمحہ بہ لمحہ بدلتے مناظر بتا رہے تھے کہ یہاں تاریخ دیواروں، درختوں اور گلیوں میں سانس لیتی ہے۔
مراکش کی سرزمین پر انسانی آبادی کے آثار کم از کم ایک لاکھ سال پرانے سمجھے جاتے ہیں۔ اس خطے کے اصل باشندے امازیغ (بربر) قبائل تھے، جنہوں نے پہاڑوں، صحراؤں اور ساحلی علاقوں میں اپنی الگ شناخت قائم رکھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ فونیقی، کارتھیجینی اور پھر رومی طاقتیں یہاں پہنچیں، جن کی یادگاریں آج بھی وولیوبلس (Volubilis) جیسے مقامات پر موجود ہیں۔
ٹیکسی Angel Avenue پر مڑی اور Opera Plaza Hotel کے کمپاؤنڈ میں جا کھڑی ہوئی۔ دروازے پر موجود عملے نے خاموش خوش اخلاقی سے ہمارا استقبال کیا۔ ہم ایک کشادہ، جدید اور نفیس لابی سے گزرتے ہوئے ریسیپشن پر پہنچے۔ نہ حد سے زیادہ شان و شوکت، نہ غیر ضروری سادگی۔ بس ایک متوازن سکون لیے ہوئے فور اسٹار ہوٹل۔ ریسیپشن پر مختصر سی کارروائی ہوئی، پاسپورٹس کی جانچ، چند مسکراہٹیں، اور پھر کمروں کی چابیاں ہمارے ہاتھ میں تھیں۔ سامان عملہ پہلے ہی کمرے تک پہنچا چکا تھا۔
مونا کو ہوٹل پسند آیا۔ کشادہ کمرہ، تمام سہولیات مہیا، خاموش راہداریاں، سوئمنگ پول، ریستوران، اور ایک متوازن، مہذب اور پُرسکون ٹھہراؤ۔
کمرے کی کھڑکی کے پردے ہٹائے تو سامنے Théâtre Royal de Marrakech کی پُروقار عمارت ہماری نظروں کے سامنے تھی۔ یہ مراکش کا جدید اوپرا ہاؤس ہے، مگر اس کی ساخت میں اسلامی اور مراکشی طرزِ تعمیر کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ محرابی خطوط، متوازن تناسب اور جیومیٹرک حسن۔
ساتویں صدی میں اسلام کی آمد نے مراکش کی تہذیب، زبان اور سماجی ڈھانچے کو ایک نئی شکل دی۔ بعد ازاں یہ خطہ مختلف مسلم سلطنتوں کے زیرِ اثر رہا۔ جدید دور میں مراکش نے فرانسیسی اور ہسپانوی نوآبادیاتی اثرات سے نکل کر 1956ء میں آزادی حاصل کی، اور یوں اس نے اپنی قدیم شناخت اور جدید ریاست کے درمیان ایک منفرد توازن قائم رکھا۔ یہی پس منظر آج کے مراکش کو تاریخی اور ثقافتی طور پر رنگین بناتا ہے۔
کمرے میں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد ہم نے جامعہ الفنا جانے کا ارادہ کیا۔ یہ مراکش کی قدیم فصیل بند بستی مدینہ (Medina) کے عین قلب میں واقع ایک وسیع اور تاریخی چوک ہے۔ مراکشی ثقافت کی علامت۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)
