پہلی قسط: پراسرار منظر
مراکش کے رنگ (سفرنامہ)
شارق علی
ویلیوورسٹی
لی اون نامی ریستوران اس وقت بھی خاصی رونق لیے ہوئے تھا، حالانکہ گھڑی صبح کے ساڑھے چار بجا رہی تھی۔ ابھی اجالا پوری طرح پھیلا نہیں تھا، مگر دن کی آمد کی آہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔
میرے سامنے صرف چائے کا ایک کپ رکھا تھا۔ نیند ادھوری تھی، مگر بھوک بالکل نہیں تھی۔ مونا، البتہ، ناشتے کے لوازمات سے خوب لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ ہم دونوں گھر سے ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے تو وقت رات کے تقریباً تین بجے کا تھا۔
اسٹینسٹڈ ایئرپورٹ ہمارے گھر سے محض دس منٹ کی مسافت پر ہے، اور مراکش جانے والی ہماری فلائٹ صبح چھ بجے کی تھی۔ گیٹ اناؤنس ہونے کے انتظار میں ہم نے ناشتے کا فیصلہ کیا۔ رائن ایئر کا جہاز کھچا کھچ تو نہیں تھا، مگر خاصا بھرا ہوا ضرور تھا۔
سترہ دسمبر 2023 کی اس صبح ہماری منزل مراکش یا موروکو کا مرکزی شہر، مراکش، تھا
ہم ایک ایسے خطے کی طرف سفر پذیر تھے جہاں تاریخ اور حال ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔
مسافروں میں زیادہ تر ہماری طرح یورپی اور دیگر سیاح تھے، مگر ساتھ ہی مراکش کے مقامی لوگ بھی موجود تھے۔ مراکش کے باشندے افریقہ کے رہنے والے ہیں، مگر عموماً سیاہ فام نہیں۔ زیادہ تر لوگ گندمی رنگت کے حامل تھے۔ کچھ توانا اور لمبے چوڑے، کچھ درمیانی جسامت کے، اور کچھ نحیف، گویا نسلوں کا ایک حسین امتزاج۔
شاید ان میں سے کچھ اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے، اور کچھ کسی نئی ذمہ داری کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔
اور ہم؟
ہم مراکش کی سمت بہت سے سوال اپنے ذہن میں لیے سفر کر رہے تھے۔ وہاں کی تاریخ، ثقافت، موجودہ جدید زندگی، لوگ، ان کا رہن سہن، اور ان کی آرزو مندی۔ اسی تجسس کو زادِ سفر بنائے مسافر نئی منزلوں کی طرف نکل پڑتے ہیں۔
مراکش شمالی افریقہ میں واقع ایک منفرد ملک ہے۔ اس کے شمال میں بحرِ اوقیانوس اور بحیرۂ روم، مشرق میں الجزائر، اور جنوب میں صحرا پھیلا ہوا ہے۔ اس کا دارالحکومت رباط ہے، جبکہ مراکش، کاسابلانکا اور فیض اس کے اہم شہر ہیں۔
اب لندن سے مراکش کی سمت ہماری پرواز صبح کی روشنی کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔ مونا کھڑکی کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ ہم دونوں کھڑکی سے نظر آتے ایک عجیب و غریب منظر کی جانب متوجہ ہوئے۔
جہاز کے نیچے سفید اور ہلکے نیلے رنگ کے بے شمار چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دکھائی دے رہے تھے، جیسے بادلوں یا شاید سمندر نے خود کو موزیک میں ڈھال لیا ہو۔ پہلی نظر میں یہ بادلوں کے بکھرے ہوئے حصے محسوس ہوئے، مگر روشنی کا زاویہ بدلتا تو وہ منظر ایسا لگتا جیسے پگھلتی برف کے تودوں سے ڈھکا سمندر دور تک پھیلا ہو۔ لیکن یہ جغرافیائی لحاظ سے ناممکن تھا۔
پھر آہستہ آہستہ بات کھلی کہ یہ شاید بادلوں کے سائے، سمندر کی سطح پر پڑتی سورج کی کرنیں، یا ساحلی علاقوں کے نمکیاتی میدان ہوں۔ وہ ارضی ساختیں جو اوپر سے دیکھنے پر حقیقت سے زیادہ خواب دکھائی دیتی ہیں۔
ہم دونوں کھڑکی کے ساتھ جھکے منظر کی اس پراسراریت پر کچھ دیر گفتگو کرتے رہے۔
طے یہ ہوا کہ یہ کوئی ایک واضح شکل نہیں، بلکہ روشنی، فاصلے اور انسانی آنکھ کا مشترکہ فریب ہے۔ صبح کی پرواز کے لمحوں میں زمینی جغرافیہ اپنی اصل پہچان چھپا کر محض ایک احساس بن جاتا ہے۔
مراکش کی آبادی تقریباً تین کروڑ ستر لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہاں عربی، بربر (امازیغ) اور فرانسیسی زبانیں بولی جاتی ہیں۔
مراکش کی ثقافت عرب، بربر اور اندلسی تہذیب کے حسین امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ ملک صرف نقشے پر ایک خطہ نہیں، بلکہ تاریخ، رنگوں، خوشبوؤں اور آوازوں سے بنا ہوا ایک زندہ تجربہ ہے۔ یہاں کے بازار محض خرید و فروخت کی جگہیں نہیں، بلکہ صدیوں پرانی کہانیوں کی گونج اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔۔۔۔ جاری ہے
