آصف فرخی: لندن کی ایک شام
شارق علی
ویلیوورسٹی
بعض ادیب اپنی تحریروں سے پہچانے جاتے ہیں، بعض اپنے ادبی کام اور حصے داری سے۔ آصف فرخی کی شخصیت میں یہ دونوں اوصاف یکجا تھے۔
افسانہ نگار، مترجم، مدیر اور ادبی منتظم کے طور پر ان کی خدمات اردو ادب کا اہم سرمایہ ہیں۔ زندگی میں ان کی حصے داری محض ادب تک محدود نہیں تھی۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر اور پبلک ہیلتھ ماہر بھی تھے۔ زندگی کے ان تمام شعبوں اور پہلوؤں میں وہ علم، وقار اور شائستگی کی پہچان تھے۔
میری ان سے دوستی نہیں تھی۔ محض احترام کا رشتہ تھا۔
پہلی واقفیت کراچی میں ڈی جے سائنس کالج میں ہوئی۔ میں ان سے ایک سال جونیئر تھا اور وہ کالج میگزین کے منتظم تھے۔
میں نے اپنے اردو کے استاد پروفیسر عشقی صاحب کو ڈرتے ڈرتے اپنی نظم دکھائی، جو انہوں نے بے حد پسند کی۔ پورے صفحے پر محیط شاباش لکھ کر اور نیچے “قابلِ اشاعت” لکھ کر دستخط کیے اور نظم واپس کرتے ہوئے کہا: “ابھی آصف کو دے آؤ، یہ نظم میگزین میں چھپے گی۔”
اسی سلسلے میں میری آصف فرخی سے پہلی مختصر ملاقات ہوئی، جو کسی خاص جذباتی گہرائی کے بغیر وہیں ختم ہو گئی۔
ڈاؤ میڈیکل کالج میں وہ مجھ سے ایک سال سینئر تھے۔ ادب سے وابستگی کے اعتبار سے ہم ایک دوسرے سے بخوبی واقف تھے، لیکن ذاتی ملاقاتوں کا کوئی سلسلہ نہ تھا۔ یہ محض واقفیت اور احترام کا رشتہ تھا۔
زمانۂ طالب علمی ہی سے ان میں ایک بات بہت نمایاں محسوس ہوتی تھی۔ وہ بہت کم عمری میں اپنی سمت کا تعین کر چکے تھے۔ ادب مجھ سمیت بہت سے دوستوں کا شوق تھا، لیکن وہ اس کم عمری میں بھی ادب سے ایک سنجیدہ عہد کر چکے تھے۔ غالباً میڈیکل کالج کے دوسرے یا تیسرے سال میں ان کی افسانوں کی کتاب شائع ہو چکی تھی اور ان کا ملنا جلنا غلام عباس اور سلیم احمد جیسے جید ادیبوں سے قائم ہو چکا تھا۔
مختصر اور سرسری ملاقاتوں میں آصف فرخی کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی غیر معمولی سادگی اور بے لاگ انداز میں اپنی رائے کا اظہار تھا۔
بہت قابل ہونے کے باوجود وہ اپنی قابلیت یا کامیابی کو نمایاں کرنے کی کوئی شعوری کوشش کرتے نظر نہیں آتے تھے۔
ڈاؤ میڈیکل کالج کے ادبی حلقوں میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا تھا۔ میں دیگر دوستوں سمیت کالج کی بیت بازی ٹیم میں باقاعدگی سے شریک ہوتا تھا اور وہ سامنے کی صفوں میں سننے والوں میں اکثر موجود ہوتے تھے، لیکن خود کبھی ہماری ٹیم کا حصہ نہیں بنے۔
میڈیکل کالج کے دوسرے یا تیسرے سال ہی میں وہ صاحبِ کتاب ادیب بن چکے تھے، جو ہمارے کالج میں ایک غیر معمولی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔
آصف فرخی نے ہمیشہ ادبی دیانت کا ہاتھ تھامے رکھا۔ تبصرہ کرتے وقت وہ مصلحت کے بجائے میرٹ کا ساتھ دیتے تھے۔
میری نسل کے لیے نوجوانی ادبی لحاظ سے ایک خوش قسمت زمانہ تھا۔ ہمیں اس دور کی بڑی ادبی شخصیات، مثلاً پروین شاکر، دلاور فگار، جون ایلیا، عبید اللہ علیم، صابر ظفر، سلیم کوثر، سلیم احمد، جمال احسانی اور دیگر بلند پایہ ادیبوں اور شاعروں سے کالج کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے ذاتی ملاقاتوں اور استفادے کا موقع ملا۔ آصف فرخی اس پورے ادبی حلقے میں جانے پہچانے تھے۔
سلیم احمد صاحب کے گھر میرا دیگر دوستوں کے ساتھ آنا جانا تھا۔ وہ بھی آصف فرخی کا ذکر بہت امید اور محبت سے کیا کرتے تھے۔
آصف نے افسانے لکھے، تراجم کیے، رسائل کی ادارت کی، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور اردو ادب کو عالمی ادبی دنیا سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات تخلیق سے آگے بڑھ کر ادارہ سازی اور ادبی مکالمے کی تشکیل تک پھیلی ہوئی تھیں۔
میری یادوں میں آصف فرخی سے وابستہ سب سے روشن باب 2017ء میں لندن میں منعقد ہونے والا کراچی لٹریچر فیسٹیول ہے۔ اس فیسٹیول کے روحِ رواں آصف فرخی تھے۔ ان کی محنت اور تنظیمی صلاحیت نے اس تقریب کو ایک یادگار ادبی اجتماع میں تبدیل کر دیا تھا۔
اس موقع پر ڈاؤ میڈیکل کالج کے چند پرانے ساتھی بھی اکٹھے ہوئے تھے، جن میں کامران اصدر علی، ظفر زیدی، منظور اور دیگر دوست شامل تھے۔ ہم نے پورا دن ایک ساتھ گزارا۔ مختلف نشستوں میں شرکت کی اور چائے و لنچ کے وقفوں میں گپ شپ کرتے رہے۔ ماحول میں کالج کینٹین کی طالب علمانہ یادیں زیادہ تھیں اور کسی سنجیدہ ادبی بحث و مباحثے سے دانستہ پرہیز کیا گیا تھا۔
مشترک دوستوں، کالج کی زندگی، ادب، طب، کراچی کے حالات اور ایسے ہی بے شمار موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔
مجھے اس دن پہلی بار آصف فرخی کو ایک ممتاز ادبی شخصیت کے بجائے ایک بے تکلف دوست، جملہ باز اور خوش مزاج ساتھی کے طور پر دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کی گفتگو میں علم بھی تھا، مزاح بھی، شائستگی بھی اور ایک ایسی گرمجوشی بھی جو برسوں کے فاصلے کو لمحوں میں ختم کر دیتی تھی۔
اسی موقع پر انہوں نے مجھے “دنیا زاد” کا ایک شمارہ دیا اور اپنے ہاتھ سے اس پر لکھا:
“ڈاکٹر شارق علی کے لیے لندن کی ایک شام”
یہ تحریر لکھتے وقت وہ دستخط شدہ کتاب ان کی یادوں کی طرح میرے ساتھ موجود ہے۔
اسی ملاقات کے دوران انہوں نے مجھ سے کراچی لٹریچر فیسٹیول لندن کی مختصر روداد اور تاثرات لکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کی فرمائش پر میں نے “آرزو کے دہے” کے عنوان سے ایک مختصر مضمون لکھا۔ آج وہ تحریر کہیں گم ہو چکی ہے، لیکن اس کے پس منظر میں موجود وہ ملاقات اور آصف فرخی کی حوصلہ افزائی آج بھی پوری طرح یاد ہے۔
کچھ عرصے بعد کراچی جانا ہوا تو آصف فرخی کا فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ حبیب یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی داستان گوئی کی تقریب میں ضرور شرکت کرو، اس بہانے ملاقات بھی ہو جائے گی۔
میں یونیورسٹی پہنچا تو ٹریفک کی وجہ سے کچھ تاخیر ہو چکی تھی۔ ہال میں داخل ہوا تو تقریب شروع ہو چکی تھی اور آصف فرخی اسٹیج پر موجود تھے۔ میں خاموشی سے پچھلی نشستوں پر جا بیٹھا۔ کچھ دیر بعد، جب میں پوری توجہ سے داستان گوئی سننے میں محو تھا، کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ مڑ کر دیکھا تو آصف فرخی مسکراتے ہوئے سامنے کھڑے تھے۔ مخصوص مسکراہٹ اور چند جملوں کا تبادلہ ہوا اور پھر وہ واپس اسٹیج پر چلے گئے۔
چائے کے وقفے میں انہوں نے میری ملاقات اپنے کئی دوستوں اور ادبی شخصیات سے کروائی۔ وہ بہت مصروف تھے، اس لیے طویل گفتگو کا موقع نہ مل سکا، لیکن اس خوشگوار تقریب کی یاد آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔
بے حد مصروف ہونے کے باوجود ان کی شخصیت میں گرمجوشی اور تعلق نبھانے کی خواہش نمایاں دکھائی دیتی تھی۔
شاید اسی لیے ان کے بے شمار دوست تھے۔
آج انہیں یاد کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی میراث صرف ان کی تحریریں اور ادبی کام ہی نہیں، بلکہ ان کی اصل میراث وہ لوگ بھی ہیں جن کی انہوں نے حوصلہ افزائی کی، وہ مکالمے ہیں جنہیں انہوں نے جنم دیا، وہ ادبی پلیٹ فارم ہیں جو انہوں نے قائم کیے، اور وہ تعلقات ہیں جنہیں انہوں نے خلوص سے نبھایا۔
ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک بڑا نقصان تھی۔ وہ ایسے وقت میں ہم سے رخصت ہوئے جب ان کی فکری اور تخلیقی توانائیاں اپنے عروج پر تھیں۔ لیکن بعض لوگ جسمانی طور پر رخصت ہونے کے بعد بھی اپنی روشنی چھوڑ جاتے ہیں۔
آصف فرخی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔
Accordion title 1
This is a placeholder tab content. It is important to have the necessary information in the block, but at this stage, it is just a placeholder to help you visualise how the content is displayed. Feel free to edit this with your actual content.
Accordion title 2
This is a placeholder tab content. It is important to have the necessary information in the block, but at this stage, it is just a placeholder to help you visualise how the content is displayed. Feel free to edit this with your actual content.
