آنکھ کی کہانی
اندھیرے سے بصارت تک
شارق علی
ویلیوورسٹی
اپنے اردگرد دیکھیے…
ہر طرف رنگ ہی رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔
نیلا آسمان، سبز لہلہاتے درخت، چہروں کے بدلتے تاثرات، کتابوں میں درج الفاظ، سورج غروب ہونے کے سنہری مناظر، اور رات ڈھلتے ہی جگمگاتے شہر…
ہم دیکھ سکتے ہیں، اس لیے یہ سب ہمارے لیے معنی رکھتے ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ زمین پر زندگی کے ابتدائی تقریباً تین ارب سال تک “دیکھنے” جیسی کوئی چیز موجود ہی نہیں تھی؟
یعنی دنیا موجود تھی…
روشنی موجود تھی…
رنگ موجود تھے…
مگر انہیں دیکھنے والی کوئی آنکھ موجود نہ تھی۔
جی ہاں۔
اس طویل عرصے میں زمین پر مائیکروبس، بیکٹیریا اور سادہ جاندار تو موجود تھے، مگر ان میں بصارت یا آنکھ جیسا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔
سورج طلوع ہوتا تھا، روشنی پھیلتی تھی، سمندر چمکتے تھے، مگر کائنات میں کوئی ایسا وجود نہ تھا جو ان مناظر کو “دیکھ” سکے۔
پھر ارتقاء نے ایک حیرت انگیز سفر شروع کیا۔
یہ کہانی ایک ننھے سے پروٹین سے شروع ہوتی ہے جسے سائنسدان Opsin کہتے ہیں۔
یہ ایک ایسا مالیکیول تھا جو روشنی کے ذرات، یعنی photons، کے ٹکرانے پر ردِعمل دے سکتا تھا۔
ابتدا میں یہ صرف اتنا محسوس کرتا تھا کہ روشنی موجود ہے یا اندھیرا۔
بس اتنی سی بات۔
یہ vision نہیں تھی۔
یہ صرف light sensing تھی۔
مگر قدرت کے عظیم ارتقائی سفر میں یہی ایک معمولی سا قدم آگے بڑھتا گیا، اور لاکھوں کروڑوں برس بعد یہی سفر آنکھ، بصارت، رنگوں، تصویروں، فلموں، دوربینوں، اور آخرکار انسانی تہذیب کی رنگا رنگ دنیا تک پہنچ گیا۔
ابتدائی جاندار شاید صرف روشنی کی سمت حرکت کرتے تھے یا اندھیرے سے دور رہتے تھے۔
پھر کچھ خلیات میں سیاہی نما pigments جمع ہونے لگے۔
اس سے جاندار کو اندازہ ہونے لگا کہ روشنی کس سمت سے آ رہی ہے۔
یوں پہلی بار direction sensing پیدا ہوئی۔
پھر ارتقاء نے ایک اور حیرت انگیز تبدیلی پیدا کی۔
روشنی محسوس کرنے والے، opsin سے بھرپور خلیات اندر کی طرف مڑنے لگے، جیسے کسی گیند میں چھوٹا سا گڑھا بن جائے۔
اب جاندار دھندلے انداز میں محسوس کر سکتا تھا کہ سامنے کوئی شے موجود ہے یا نہیں۔
یہ primitive eye تھی۔
لاکھوں برس بعد اس گڑھے کا سوراخ مزید چھوٹا ہوا، بالکل pinhole camera کی طرح۔
اب دھندلی تصویریں بننے لگیں۔
پھر ایک اور حیرت انگیز قدم وجود میں آیا۔
کچھ شفاف proteins جمع ہو کر lens بننے لگے۔
اب روشنی بہتر انداز میں focus ہونے لگی۔
تصویر زیادہ واضح ہوگئی۔
اور یوں پہلی حقیقی آنکھ وجود میں آئی۔
بعد میں opsin genes کی copies بنتی گئیں۔
ہر نئی copy مختلف رنگوں کی روشنی کو الگ الگ محسوس کرنے لگی۔
کسی نے نیلا رنگ پہچانا،
کسی نے سبز،
اور کسی نے سرخ۔
یوں رنگوں کی دنیا وجود میں آئی۔
ذرا سوچیے…
ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب نہ آسمان “نیلا” تھا، نہ درخت “سبز”، کیونکہ رنگ صرف تب معنی رکھتے ہیں جب کوئی شعور انہیں محسوس کرے۔
ارتقاء نے صرف آنکھ نہیں بنائی…
اس نے کائنات کو “دیکھنے” کا عمل پیدا کیا۔
اور شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے حیرت انگیز پہلو ہے۔
کائنات میں روشنی تو اربوں سال سے موجود تھی، مگر اسے دیکھنے والا کوئی نہیں تھا۔
پھر ایک چھوٹے سے opsin molecule نے ارتقاء کے سفر میں وہ پہلا قدم اٹھایا، جس نے آخرکار انسان کو ستاروں کو دیکھنے، فن تخلیق کرنے، کتابیں لکھنے، دوربینیں بنانے، اور خود اپنی آنکھ کی کہانی سمجھنے کے قابل بنا دیا۔
واقعی…
یہ ایک حیرت انگیز کہانی ہے۔
