Skip to content
Home » Blog » کھیل کھیل میں

کھیل کھیل میں

  • by

کھیل کھیل میں

شارق علی
ویلیوورسٹی

برطانوی ماہرِ حیوانیات اور مشہور مصنف Desmond Morris نے اپنی معروف کتاب The Naked Ape میں انسانی رویّوں کو حیوانی ارتقاء کے تناظر میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ بعد میں اپنی دیگر تحریروں اور تحقیق میں بھی انہوں نے ایک نہایت دلچسپ نکتہ بیان کیا:

بہت سے جانور بچپن میں کھیلتے ہیں، لیکن انسان واحد مخلوق ہے جو بالغ ہونے کے بعد بھی “کھیل” کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائے رکھتا ہے۔

اگر آپ کبھی چمپینزی کے بچوں کو دیکھیں تو وہ بالکل انسانی بچوں کی طرح اچھلتے کودتے، ایک دوسرے کو چھیڑتے اور کھیل کھیل میں نئی چیزیں سیکھتے نظر آتے ہیں۔ ہاتھی کے بچے بھی پانی میں کھیلتے ہیں، دوڑتے ہیں اور شرارتیں کرتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے یہ جانور بڑے ہوتے جاتے ہیں، ان کی زندگی سنجیدہ ہوتی جاتی ہے۔ ان کی توجہ صرف خوراک، حفاظت، طاقت اور بقا تک محدود ہو جاتی ہے۔

لیکن انسان؟

انسان بڑا ہو کر بھی کھیلنا نہیں چھوڑتا۔
صرف کھیل کی شکل بدل جاتی ہے۔

بچپن کی گیند، بڑے ہو کر فٹبال اسٹیڈیم بن جاتی ہے۔
کھلونوں کی آوازیں، موسیقی اور آرکسٹرا میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

بچپن کی تصویریں، مصوری اور آرٹ گیلریوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
جسمانی حرکات، رقص بن جاتی ہیں۔
اور کہانیاں سننے کا شوق، ناولوں، فلموں اور تھیٹر کی دنیا پیدا کر دیتا ہے۔

Desmond Morris
کے مطابق یہ خصوصیت دراصل انسان کی “neoteny” یعنی بچپن کی بعض خصوصیات کو پوری زندگی برقرار رکھنے کی صلاحیت سے جڑی ہوئی ہے۔ انسان صرف جسمانی طور پر نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی ایک حد تک “بچپن” کو اپنے اندر زندہ رکھتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ تجسس کرتا ہے، سوال پوچھتا ہے، تخلیق کرتا ہے اور نئی دنیائیں تصور کرتا ہے۔

سوچیے…

اگر انسان کھیلنا چھوڑ دیتا، تو شاید موسیقی پیدا نہ ہوتی، شاعری نہ لکھی جاتی، فلمیں نہ بنتیں اور سائنس بھی اتنی آگے نہ بڑھتی۔

کیونکہ کھیل صرف تفریح نہیں۔

کھیل دراصل تخلیق کی ابتدائی شکل ہے۔
اور شاید انسان کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ زندگی کو صرف گزارنے کے لیے نہیں جیتا…
بلکہ اسے محسوس کرنے، سمجھنے اور خوبصورت بنانے کے لیے بھی جیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *