Skip to content
Home » Blog » نمک کا دانہ

نمک کا دانہ

  • by

نمک کا دانہ

شارق علی
ویلیوورسٹی

گرمی کے دنوں میں پسینے سے شرابور کرکٹ میچ، طویل واک یا ورزش کے بعد گھر واپس آتے تو شدید پیاس محسوس ہوتی۔ جلدی سے پانی پیتے۔ لیکن بعض اوقات کمزوری، چکر یا تھکن کا احساس فوراً ختم نہ ہوتا۔ ہم سمجھتے کہ شاید صرف پانی کی کمی تھی۔ کیا معلوم تھا کہ کہانی ذرا گہری بھی ہو سکتی ہے۔ تھکا ہوا جسم صرف پانی نہیں مانگتا، اسے نمک بھی چاہیے ہوتا ہے۔

بات یہ ہے کہ یہی عام سا سفید نمک، جسے ہم روزانہ کھانے پر چھڑکتے ہیں، دراصل حیاتیاتی نظاموں کو خاموشی سے چلانے میں مصروف رہتا ہے۔

نمک دو اہم عناصر پر مشتمل ہوتا ہے: سوڈیم اور کلورائیڈ۔ یہ دونوں ایسے خاموش کارکن ہیں جن کے بغیر جسم کا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے۔

جب ہمارا دماغ ہاتھ اٹھانے، چلنے یا پلک جھپکنے کا حکم دیتا ہے تو اعصاب کے ذریعے برقی سگنلز سفر کرتے ہیں، اور ان سگنلز کی ترسیل میں سوڈیم اہم کردار ادا کرتا ہے۔

دل کی باقاعدہ دھڑکن بھی نمک سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر جسم میں الیکٹرولائٹس کا توازن بگڑ جائے تو دل کی دھڑکن متاثر ہو سکتی ہے۔

نمک جسم میں پانی کی مناسب تقسیم برقرار رکھتا ہے تاکہ خلیات سکڑنے یا پھولنے نہ لگیں۔

یہی نہیں، نمک میں موجود کلورائیڈ معدے میں ہائیڈروکلورک ایسڈ بنانے میں مدد دیتا ہے، جو خوراک ہضم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

تاریخ بھی تو نمک کی اہمیت کی گواہ ہے۔

قدیم رومی سلطنت میں بعض فوجیوں کو نمک یا اس کی قیمت کی شکل میں اجرت دی جاتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ انگریزی لفظ Salary بھی اسی تصور سے نکلا ہے۔

یوں دسترخوان پر رکھا ایک معمولی سا دانہ دار جزو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی بہت سی بڑی حقیقتیں خاموش اور روز مرہ شکلوں میں ہمارے آس پاس موجود ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *