Skip to content
Home » Blog » ایشیائی اتحاد

ایشیائی اتحاد

  • by

ایشیائی اتحاد

شارق علی
ویلیوورسٹی

ان دنوں ہمارا قیام کارڈف میں تھا۔ میرے چھوٹے بیٹے سمید کی عمر کوئی ڈھائی تین سال کی ہوگی۔ اس کے دونوں بڑے بہن بھائی سکول جاتے تھے۔ سمید بھی اکثر سکول جانے کی ضد کرتا تھا۔ اس شوق کو دیکھتے ہوئے ہم نے اسے ہیڈ اسٹارٹ نرسری میں داخل کروا دیا۔

اس نرسری میں سمید کا عزیز ترین دوست کوٹا تھا—بالکل سمید جیسی قدوقامت اور بھرپور جاپانی نقوش والا کوٹو۔ وہ بھی اس دوستی کا دم بھرتا۔ دونوں ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتے۔ وہ مل کر کھیلتے اور اکثر ایک ساتھ معصوم شرارتیں کرتے۔

جب بھی میں یا سمید کی امی اسے نرسری سے لینے جاتے، تو کوٹا کے منتظر والدین سے دو چار منٹ ضرور بات ہوتی۔ کوٹا بھی اپنے گھر میں سمید کا ذکر اتنے ہی جوش سے کرتا تھا جتنا کہ سمید کوٹا کا کرتا تھا۔

یہ بات ہم والدین کو بھی قریب لے آئی تھی۔

پاکستانی اور جاپانی ثقافت کے بارے میں موازنے کیے جاتے۔ بہت سی دلچسپ باتوں کا ذکر ہوتا۔ جھک کر کیے جانے والے جاپانی سلام کو آداب عرض سے مماثل قرار دیا جاتا۔ بریانی، قورمے اور جاپانی سوشی، ساشیمی اور ٹیمپورا جیسے پکوانوں کی بات ہوتی۔

سمید اور کوٹا نرسری میں مل بیٹھتے تو شرارتیں بھی کرتے۔ ایک دفعہ دونوں نے مل کر کلاس روم میں بنے کارڈ بورڈ کے نمائشی گھر کو ٹیچر کی نظروں سے بچ کر اپنے پسندیدہ رنگوں سے رنگ ڈالا۔

ایک بار دونوں نے مل کر صابن کے بلبلے بڑی تعداد میں پوری کلاس میں اڑائے، جس سے سب بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

نرسری میں زیادہ تر انگریز اور ویلش بچے تھے جو عموماً ذرا شور مچانے والے ہوتے ہیں۔ وہ کبھی کبھار جسمانی بُلی انگ کی طرف مائل ہوتے تو سمید اور کوٹو کا ایشیائی اتحاد مل کر یورپی حملے کا دفاع کرتا اور دشمن کے حملے کو ناکام بناتا۔

ہمارے گھر کوئی مہمان آتا تو سمید صاحب کو بلایا جاتا۔ وہ کوئی نظم سناتے اور پوچھنے پر اپنی پسندیدہ ڈش بریانی اور بیسٹ فرینڈ کوٹا کا ذکر کرتے۔

سمید اور کوٹا نے نرسری سے کامیاب گریجویشن مکمل کی تو ان کا ایک گروپ فوٹو کھینچا گیا، جو اب تک ہمارے فیملی البم میں موجود ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اب سمید کو کوٹا کا چہرہ اور یہ سارے قصے یاد نہیں۔ سمید اور شاید کوٹا کو بھی نہ سہی، لیکن نرسری گریجویشن والی تصویر کو یہ دوستی اب بھی یاد ہے۔

بچپن کے دوست اور لمحے کتنے قیمتی ہوتے ہیں—کوئی اس تصویر سے پوچھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *