بورا بورا
شارق علی
ویلیوورسٹی
کبھی کبھی اپنے خیالوں میں کسی ایسے جزیرے کی طرف نکل جانا چاہیے جہاں شور نہ ہو، جہاں جنگ و جدل کی خبروں کی تلخی نہ ہو، جہاں انسان کی بنائی ہوئی الجھنیں، مثلاً جنگ، سیاست اور معاشی بھاگ دوڑ، پیچھے رہ جائیں۔ ایک ایسا جزیرہ جہاں صرف بہتے پانی کی ہلکی آواز ہو اور ہوا میں سکون گھلا ہوا ہو۔
ایسا سوچوں تو ایک تصویر ابھرتی ہے: بورا بورا۔
میں نے اس جزیرے کا سفر کبھی نہیں کیا۔ اس کے بارے میں پڑھا ضرور ہے، تصویریں دیکھی ہیں اور سوچا ضرور ہے۔ اپنے ذہن میں وہاں کی ایک دنیا بسائی ہے۔
جنوبی بحرالکاہل میں واقع یہ جزیرہ French Polynesia کا حصہ ہے، جو دراصل France کے زیرِ انتظام ایک اوورسیز خطہ ہے۔ یعنی یہ کوئی آزاد ملک نہیں بلکہ فرانس کی انتظامی نگرانی میں آتا ہے۔
بورا بورا ایک غیر آباد خواب نہیں، بلکہ یہاں تقریباً دس ہزار کے قریب آبادی موجود ہے، جو زیادہ تر مقامی Polynesian لوگوں پر مشتمل ہے۔ آج کے دور میں اس جزیرے کی سب سے بڑی پہچان سیاحت (tourism) ہے۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں تاکہ اس کے شفاف پانی، اوور واٹر بنگلوز، اور پرسکون ماحول کا تجربہ کر سکیں۔ اس کے گرد موجود مرجانی چٹانیں (coral reefs) نہ صرف خوبصورتی کا باعث ہیں بلکہ سمندری حیات کے لیے ایک محفوظ نظام بھی فراہم کرتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بورا بورا دراصل ایک قدیم آتش فشاں کی باقیات ہے، جسے وقت نے جنت نظیر منظر میں بدل دیا ہے۔ اس حسن کے ساتھ ایک نازک اور سنگدل حقیقت بھی جڑی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتا ہوا سمندری درجۂ حرارت ان مرجانی چٹانوں کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ تحریر مسافر نے نہیں، خواب دیکھنے والے نے لکھی ہے۔
شاید کبھی موقع ملے، ممکن ہے نہ ملے، مگر یہ جزیرہ سکون کی تلاش کا استعارہ ضرور ہے۔
