Skip to content
Home » Blog » خلا اور انسانی جسم

خلا اور انسانی جسم

  • by

خلا اور انسانی جسم

شارق علی
ویلیوورسٹی

ایک صورتحال کے بارے میں ذرا غور کیجیے۔ دو جینیاتی جڑواں بھائی ہوں، یعنی ایک سا ڈی این اے، ایک جیسی پرورش اور ماحول۔ پھر ایک بھائی زمین پر رہے اور دوسرا پورا ایک سال خلا میں گزارے۔

تحقیقی سوال یہ تھا کہ جب کششِ ثقل تقریباً ختم ہو جاتی ہے تو انسانی فزیالوجی پر کیا گزرتی ہے؟

ناسا نے اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے “ٹوئنز اسٹڈی” کی۔ اس تحقیق میں خلا میں جانے والے خلاباز اسکاٹ کیلی اور زمین پر موجود ان کے جڑواں بھائی مارک کیلی کا تقابلی مطالعہ کیا گیا۔
اسکاٹ نے تقریباً 340 دن انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں گزارے، جہاں نہ مکمل دن ہوتا ہے نہ رات، اور جسم ہر لمحہ مائیکرو گریوٹی کے ماحول میں رہتا ہے۔

خلائی ماحول میں انسانی فزیالوجی کا پہلا بڑا چیلنج ہڈیاں ہوتی ہیں۔ زمین پر ہماری ہڈیاں وزن اٹھاتی ہیں، مگر خلا میں یہ بوجھ ختم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ہڈیوں کی معدنی مضبوطی کم ہونے لگتی ہے اور کیلشیم جسم سے خارج ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلاباز روزانہ مخصوص ورزش کرتے ہیں تاکہ ہڈیوں اور پٹھوں کو متحرک رکھا جا سکے۔

حیرت انگیز طور پر تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ اسکاٹ کے ڈی این اے کے سروں، جنہیں ٹیلو میئرز کہا جاتا ہے، کی لمبائی خلا میں بدل گئی۔ واپسی پر ان میں دوبارہ تبدیلی آئی۔ گویا انسانی جسم صرف عضلات یا ہڈیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی فزیالوجی خلیاتی سطح پر بھی ردِعمل ظاہر کرتی ہے۔

مزید یہ کہ مدافعتی نظام نے بھی خلا میں تقریباً ویسا ہی کام کیا جیسا زمین پر۔ اس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ طویل خلائی سفر ممکن ہے، بشرطیکہ ہم انسانی فزیالوجی کو بہتر طور پر سمجھ لیں۔

یہ تحقیق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کا جسم حیرت انگیز حد تک لچکدار ہے۔ مگر کائنات کے نئے ماحول، مثلاً خلا میں، اس میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *