تعلیم یافتہ کون؟ سوچ سے صنعت تک
شارق علی
ویلیوورسٹی
مشہور برطانوی فلسفی جان لاک کے مطابق تعلیم کا اصل مقصد محض معلومات کا ذخیرہ جمع کرنا نہیں، بلکہ ذہن کو سوچنے کی صلاحیت دینا ہے۔
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیم انسان کو سوال کرنے، دلائل کو پرکھنے اور حقیقت اور مفروضے میں فرق کرنے کے قابل بنائے۔ اگر تعلیم صرف رٹّے اور امتحانی نمبروں تک محدود رہے تو وہ ذہن کو آزاد نہیں کرتی، بلکہ اسے ایک محدود دائرے میں قید کر دیتی ہے۔
ایک حقیقی تعلیم یافتہ شخص وہ ہے جو تنقیدی انداز میں سوچ سکے، دوسروں کی رائے کا اندھا پیروکار نہ بنے، اور اپنے فیصلے دلیل اور شعور کی بنیاد پر کرے۔
تنقیدی سوچ انسان کو فکری خود مختاری عطا کرتی ہے۔ وہ افواہوں، تعصبات اور غلط معلومات کے طوفان میں بہنے کے بجائے ٹھہر کر سوچتا ہے۔ یہی صلاحیت اسے ذاتی زندگی، سماجی معاملات اور پیشہ ورانہ میدان میں بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس لحاظ سے تعلیم انسان کو بااختیار بناتی ہے۔ وہ صرف علم کا حامل نہیں رہتا بلکہ علم کا صحیح استعمال بھی جانتا ہے۔
مگر آج کے چین میں تعلیم کا تصور ایک اور مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر چین کی بعض جامعات نے ڈاکٹریٹ کی سطح پر ایک نیا رجحان متعارف کروایا ہے، جہاں پی ایچ ڈی صرف ایک طویل تحقیقی مقالے تک محدود نہیں رہی۔ وہاں بعض شعبوں میں ایسے افراد کو ڈاکٹریٹ دی جا رہی ہے جو صنعت میں عملی جدت (innovation) پیدا کریں۔ ایسی ایجاد یا حل پیش کریں جس سے معاشرے اور معیشت کو حقیقی فائدہ ہو۔
اس نظام میں ایک اکیڈمک سپروائزر کے ساتھ ایک انڈسٹری سپروائزر بھی شامل ہوتا ہے تاکہ علم اور عمل کے درمیان مضبوط ربط قائم رہے۔
یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ تعلیم یافتہ ہونے کا مفہوم وسیع ہو رہا ہے۔ اب صرف یہ کافی نہیں کہ انسان درست سوچ سکے؛ ضروری یہ بھی ہے کہ وہ اپنی سوچ کو عملی شکل دے سکے۔
یوں جدید تعلیم دو ستونوں پر کھڑی نظر آتی ہے: شعور اور کردار کی پختگی، اور علم کا عملی و معاشرتی اطلاق۔
حقیقی تعلیم یافتہ شخص وہ ہے جو صاف سوچ رکھتا ہو اور اس سوچ کو دنیا کے لیے مفید نتائج میں بدل سکے۔ یہی مستقبل کی تعلیم ہے۔ ذہن کی روشنی اور عمل کی تاثیر کا حسین امتزاج
