Skip to content
Home » Blog » Alexander Flemingپینسلین کی کہانی

Alexander Flemingپینسلین کی کہانی

  • by

Alexander Fleming
پینسلین کی کہانی

شارق علی
ویلیوورسٹی

1928 کی ایک عام سی صبح، لندن کے St. Mary’s Hospital London کی لیبارٹری میں ایک معمول کا منظر تھا۔

اسکاٹش سائنس دان Alexander Fleming چھٹیوں سے واپس آئے تو میز پر رکھی پیٹری ڈشوں میں سے ایک میں پھپھوندی لگ چکی تھی۔ عام لیبارٹری اصول تو یہی کہتا تھا کے خراب نمونہ ضائع کر دیا جاے۔

مگر فلیمنگ نے اسے غور سے دیکھا۔
انہوں نے مشاہدہ کیا کہ اس پھپھوندی کے گرد موجود بیکٹیریا ختم ہو چکے تھے۔ جیسے کسی خاموش محافظ نے جراثیم کو گھیر کر مار دیا ہو۔ انہوں نے اس مادّے کو “Penicillin” کا نام دیا۔

یہ دریافت کسی عظیم منصوبہ بند تحقیق کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ محض ایک اتفاق تھا۔

اصل میں یہ دریافت اتفاق نے نہیں کی، بلکہ اس اتفاق کا مشاہدہ کر کے اسے پہچاننے والی آنکھ نے کی۔

ابتدا میں کسی نے اس دریافت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ پینسلین کو خالص صورت میں تیار کرنا مشکل تھا۔

برسوں بعد Howard Florey اور Ernst Boris Chain نے اس پر مزید کام کیا اور اسے قابلِ استعمال دوا کے طور پر بنایا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران یہی دوا زخمی سپاہیوں کے لیے زندگی اور موت کے درمیان فرق بن گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلیمنگ نے اس دریافت سے مالی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے پیٹنٹ کے ذریعے دولت سمیٹنے کے بجائے اسے انسانیت کی مشترکہ امانت سمجھا۔ ان کے نزدیک سائنس کا مقصد شہرت یا سرمایہ نہیں، بلکہ انسانی خدمت تھا۔

1945 میں انہیں نوبل انعام ملا، مگر ان کی اصل میراث دولت نہیں، ایک نیا طبی دور اور انقلاب تھا۔

انہوں نے ایک اور بات بھی کہی تھی۔ اگر اینٹی بایوٹکس کا بے جا استعمال ہوا تو جراثیم مزاحمت پیدا کر لیں گے۔ آج اینٹی بایوٹک ریزسٹنس اسی تنبیہ کی بازگشت ہے۔
ایک بھولی ہوئی پیٹری ڈش نے دنیا بدل دی۔ مگر اصل انقلاب اس ذہن نے برپا کیا جو تجسس، دیانت اور انسانیت سے بھرپور تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *