علمَک تہذیب ۔ پتھر میں لکھی خاموش کہانی
شارق علی
ویلیوورسٹی
انسانی تاریخ کے گھنے جنگل میں کچھ تہذیبیں ایسی ہیں جو زیادہ بولتی نہیں، مگر گہرا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ علمَک تہذیب بھی انہی میں سے ایک ہے۔ جنوبی میکسیکو میں تقریباً 1200 سے 400 قبلِ مسیح کے درمیان پروان چڑھنے والی اس تہذیب کو میسوامریکا کی “ماں تہذیب” کہا جاتا ہے، کیونکہ مایا اور ایزٹیک جیسی عظیم تہذیبوں نے اسی کے فکری بیجوں سے نمو پائی۔
علمَک کی سب سے نمایاں پہچان اس کے دیوہیکل سنگی سر ہیں۔ بازالٹ کے پتھر سے تراشے گئے یہ سر بعض اوقات چالیس ٹن وزنی ہیں۔ مضبوط جبڑا، چوڑی ناک، گہری آنکھیں اور سر پر ہیلمٹ جیسی ساخت۔ یہ محض فن نہیں، اقتدار اور شناخت کی علامت ہیں۔ ماہرین کے نزدیک یہ حکمرانوں کی تصویری نمائندگی ہیں، وہ شخصیات جو مذہب، سیاست اور سماجی نظم کا مرکز تھیں۔
اصل حیرت ان سروں کی جسامت نہیں، بلکہ ان کی منتقلی ہے۔ میلوں دور پہاڑوں سے یہ وزنی پتھر اس دور میں لائے گئے جب نہ پہیہ رائج تھا نہ دھاتی اوزار۔ یہ اجتماعی نظم، انجینئرنگ فہم اور منظم معاشرتی ڈھانچے کی واضح دلیل ہے۔
آج یہ خاموش چہرے ہمیں دیکھتے ہیں تو سوال کرتے ہیں۔ انسان نے اپنی تخلیقی قوت کب پہچانی؟ علمَک تہذیب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تہذیب صرف عمارتوں سے نہیں بنتی، اجتماعی ارادے اور تخلیقی جرأت سے بنتی ہے اور یہی جرأت انسان کو ماضی سے مستقبل تک جوڑے رکھتی ہے۔
