Skip to content
Home » Blog » ابن خلدون: تاریخ فہم مفکر(1332–1406)

ابن خلدون: تاریخ فہم مفکر(1332–1406)

  • by

ابن خلدون: تاریخ فہم مفکر
(1332–1406)

شارق علی
ویلیوورسٹی

ابن خلدون تاریخ، سماج اور انسانی فکر کے اُن عظیم ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے محض واقعات بیان نہیں کیے بلکہ تاریخ کے پیچھے کارفرما قوانین کو سمجھنے کی کوشش کی۔

ان کی پیدائش تیونس میں ہوئی۔ وہ ایک علمی اور معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے، اسی لیے بچپن ہی سے انہیں تعلیم، مطالعہ اور فکری مباحث کا ماحول میسر آیا۔

ابن خلدون کی زندگی سیاسی اتار چڑھاؤ، سفارت کاری اور تدریس کے مراحل سے گزری۔ انہوں نے شمالی افریقہ، اندلس اور مصر میں مختلف سرکاری ذمہ داریاں نبھائیں، قید و بند کی صعوبتیں بھی دیکھیں، مگر ان سب تجربات نے ان کی فکر کو مزید گہرا کر دیا۔ یہی عملی مشاہدہ بعد میں ان کے علمی کام کی بنیاد بنا۔

ان کا سب سے اہم اور مشہور کارنامہ “المقدمہ” ہے، جو تاریخ کی ایک عام کتاب نہیں بلکہ سماجیات، معیشت، سیاست اور تہذیب کے اصولوں پر ایک غیر معمولی فکری تجزیہ ہے۔ ابن خلدون نے بتایا کہ قومیں کس طرح عروج پاتی ہیں اور پھر زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے “عصبیت” (اجتماعی یکجہتی) کا تصور پیش کیا اور واضح کیا کہ مضبوط سماجی رشتے ہی کسی معاشرے کی طاقت ہوتے ہیں۔

ابن خلدون کو جدید عمرانیات (Sociology) اور تاریخ کے فلسفے کا بانی بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے واقعات کو اندھی تقلید کے بجائے عقل، مشاہدے اور تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے کا طریقہ سکھایا۔

آج سات سو برس گزرنے کے باوجود ان کی تحریریں ہمیں یہ سمجھاتی ہیں کہ تاریخ صرف ماضی کا بیان نہیں، بلکہ حال اور مستقبل کو سمجھنے کی کنجی بھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *