نیانڈرتھل اور ہومو سیپینس
قدیم تاریخ کا نیا زاویہ
شارق علی
ویلیوورسٹی
انسانی تاریخ کو طویل عرصے تک ایک سادہ بیانیے میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ نیانڈرتھل آئے، کچھ عرصہ زندہ رہے، اور پھر تقریباً چالیس ہزار سال پہلے ختم ہو گئے، جبکہ Homo sapiens، یعنی ہم، دنیا میں پھیل گئے۔
مگر حالیہ سائنسی دریافتوں نے اس سادہ تصور کو سنجیدہ سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
نیانڈرتھل انسان کی ایک قدیم قسم تھے جو تقریباً چار لاکھ سال پہلے یورپ اور مغربی ایشیا میں آباد ہوئے۔ وہ مضبوط جسم رکھتے تھے، سرد موسم سے مطابقت رکھتے تھے، اور شکار کی مہارت میں ممتاز تھے۔ ایک زمانے میں انہیں کم عقل اور وحشی سمجھا جاتا تھا، مگر جدید تحقیق بتاتی ہے کہ وہ آگ استعمال کرتے تھے، اوزار بناتے تھے، اپنے مردوں کو دفن کرتے تھے، اور علامتی سوچ بھی رکھتے تھے۔ یعنی وہ بھی ہماری طرح انسان تھے، مگر ایک مختلف شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔
ہومو سیپینس تقریباً تین لاکھ سال پہلے افریقہ میں ظاہر ہوئے۔ زبان، تخیل، اور سماجی تنظیم ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ جب وہ افریقہ سے نکل کر یورپ پہنچے تو ان کا سامنا نیانڈرتھل سے ہوا۔
دونوں نہ صرف ایک ہی علاقوں میں رہے بلکہ بعض مواقع پر آپس میں ملاپ بھی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج افریقہ سے باہر رہنے والے انسانوں میں نیانڈرتھل کا ڈی این اے موجود ہے۔
اس کہانی کا سب سے دلچسپ موڑ جبرالٹر کی Gorham’s Cave سے ملتا ہے۔ اس غار میں ہونے والی تحقیق سے شواہد ملے ہیں کہ نیانڈرتھل شاید چوبیس ہزار سال پہلے تک یہاں زندہ تھے، یعنی ہماری سابقہ سوچ سے کہیں زیادہ عرصے تک۔ اوزار، ہڈیاں، اور آگ کے آثار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ یہاں ایک منظم اور بامعنی زندگی گزار رہے تھے۔
یوں نیانڈرتھل کی کہانی کسی اچانک خاتمے کی نہیں بلکہ ایک آہستہ، پیچیدہ، اور انسانی ارتقائی عمل کی داستان ہے، جس میں مقابلہ بھی تھا، میل جول بھی، اور وراثت بھی۔
