ڈبروونک کا والڈ سٹی، ایڈریاٹک کنارے
پانچویں قسط
شارق علی
ویلیوورسٹی
کیبل کار سے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو باہر آ کر سامنے ایک وسیع اور نیم دائرہ نما ویونگ گیلری سے ملاقات ہوئی۔ اس کے مختلف حصوں میں چہل قدمی کرتے ہوئے ڈبروونک کے ایریل ویوز ہر سمت سے بخوبی دیکھے جا سکتے تھے۔
پھر ہم گیلری کی بلندی سے اترتی ہوئی چند پتھروں میں تراشی گئی سیڑھیوں سے نیچے اتر کر ایک دلکش ریسٹورنٹ تک جا پہنچے۔
تراشے ہوئے پہاڑ کو مختلف سطحوں پر تقسیم کر کے اوپن ایئر ٹیبلز اور ان پر سایہ فگن رنگین چھتریاں تان کر اس ریستوران کو بالکل ہی مختلف انداز اور مزاج دے دیا گیا تھا۔ ٹیبل پر بیٹھتے ہی کھلی فضا، دور تک نظر آتا سمندر اور اس میں بکھرے جزیرے آنکھوں کو مسحور کر دیتے تھے۔ چاق و چوبند میزبان لڑکیاں اور لڑکے روایتی کروشین لباس پہنے ہوئے تھے۔ لنچ کا وقت تو ابھی دور تھا، اس لیے ہم نے کافی اور سنیکس کا آرڈر دے کر کچھ خوشگوار وقت وہاں گزارا۔
پھر ہم کیبل کار میں دوبارہ سوار ہو کر نیچے آئے، اور اس کے بعد پیدل والڈ سٹی کے مرکزی دروازے کی جانب بڑھنے لگے۔
ڈوبروونک کا یہ قدیم فصیلی شہر، یا والڈ سٹی، ساتویں صدی میں آباد ہوا۔ قرونِ وسطیٰ میں یہ ریپبلک آف راگوسا کہلاتا تھا۔ یہ شہر اپنی مضبوط فصیلوں، سمندری تجارت اور سفارت کاری کی وجہ سے مشہور تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں غلامی 1416ء میں ختم کر دی گئی، جو اس دور میں ایک نہایت غیر معمولی فیصلہ تھا۔ فصیلوں کے اندر تنگ گلیاں، قدیم کلیسا اور سنگِ مرمر کی سڑکیں آج بھی اس کی تاریخ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی قدیم قلعے میں قدم رکھ دیا ہو۔ پتھریلی اور بلند چٹانی فصیل، بیچ میں مرکزی دروازہ اور اس سے آگے بڑھتی ہوئی سیڑھیوں سے بنی نشیبی گزرگاہ—سب کچھ ایک مضبوط دفاعی شہر کی یاد دلاتا تھا۔
اس شہر میں پہاڑیوں کو تراش کر مختلف سطحوں پر دائیں اور بائیں جانب گلیاں تعمیر کی گئی ہیں۔ گویا آپ مرکزی سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے مختلف سطحوں پر پھیلی ہوئی گلیوں میں بنے مکانوں اور ریستورانوں کی قطاریں دیکھتے جاتے ہیں۔ چاہیں تو ان گلیوں میں گھوم پھر بھی سکتے ہیں۔
مرکزی نشیبی گزرگاہ کے دونوں جانب کہیں کہیں چھوٹے اسٹالز بھی نظر آ جاتے ہیں، کہیں ریستورانوں کے داخلی دروازے اور کہیں سیاحتی دلچسپی کی مختلف دکانیں۔ ہم یوں ہی آہستہ آہستہ تراشی ہوئی ان سیڑھیوں سے نیچے اترتے رہے، یہاں تک کہ بالآخر شہر کے اصل حصے، یعنی اندرونی شہر، کی مرکزی سڑک تک جا پہنچے۔
ڈوبروونک کے والڈ سٹی کے ابتدائی باسی زیادہ تر رَگوسا (Ragusa) کہلانے والی ایک خودمختار سمندری جمہوریہ کے شہری تھے۔ ان کی ثقافت رومی، سلاوی اور بحیرۂ روم کی تہذیبوں کا حسین امتزاج تھی۔ یہ لوگ سادہ مگر نفیس لباس پہنتے تھے۔ اون اور کاٹن سے بنے لمبے چوغے، جن میں رنگوں کی سادگی اور وقار جھلکتا تھا، جبکہ امرا ہلکے زیورات اور کشیدہ کاری والے ملبوسات استعمال کرتے تھے۔ ان کا ذریعۂ معاش زیادہ تر سمندری تجارت، جہاز سازی، نمک کی تجارت اور سفارت کاری تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈوبروونک نے طاقتور سلطنتوں کے درمیان توازن قائم رکھ کر تجارت کو ہتھیار بنایا، جنگ کو نہیں۔ یہاں کے لوگ وقت کے بے حد پابند، تحریری معاہدوں کے شیدائی اور قانون کے احترام میں مشہور تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس چھوٹے سے شہر نے صدیوں تک اپنی آزادی برقرار رکھی۔ غلامی کے خلاف قانون یورپ میں سب سے پہلے یہی نافذ ہوا، جو اس شہر کے باسیوں کی روشن خیال سوچ کا ایک حیرت انگیز ثبوت ہے۔
مرکزی سڑک پر پہنچ کر ہم پانچوں نے ایک فیصلہ کیا۔ میں اور مونا ایک ساتھ، اور سب بچے اپنے اپنے طور پر مختلف سمتوں میں اس چھوٹے سے شہر کو ایکسپلور کرنے نکل گئے۔ ہم سب کو لنچ کے لیے ایک مقررہ وقت پر واپس اسی جگہ آ کر دوبارہ ملنا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
