ساحلی پگڈنڈی، ایڈریاٹک کنارے
تیسری قسط
✍️ شارق علی
ویلیوورسٹی
ریستوران میں دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر ہم پُررونق پرومناڈ پر ساحل کی جانب چہل قدمی کرنے والے سیاحوں میں شامل ہو گئے۔
ساحل پر پہنچے تو نکھری ہوئی دھوپ اور نرم ہوا، جس میں نمکین نمی گھلی تھی، ہمارے استقبال کو موجود تھیں۔ ریتیلے کناروں کے ساتھ ہوٹلوں کا ساحلی رُخ ایک خوبصورت نیم دائرہ سا بنائے ہوئے تھا۔ سامنے لہروں کا شور، ریتیلے ساحل سے سر پٹختا سمندر، اور تا حدِ نظر پھیلے نیلے پانی میں دو چھوٹے جزیرے دکھائی دے رہے تھے۔
ریت پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لکڑی کی نیم دراز کرسیاں رکھی تھیں۔ سیاح تیراکی کے بعد ان پر بیٹھ کر دھوپ سینکتے، آسمان کو تکتے یا سورج کی کرنوں سے اپنے جسم کو سنولاتے۔ یہ کرسیاں عام لوگوں کے استعمال کے لیے تھیں، کسی ایک ہوٹل کی ملکیت نہیں تھیں۔ ہم بھی کچھ دیر ان پر بیٹھے باتیں کرتے رہے، پھر لیٹ گئے اور آنکھیں موند کر لہروں کے مسلسل شور سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
ہمارے اردگرد کا منظر یورپی تہذیب، شائستگی اور سکون کا بہترین مظہر تھا۔ مغربی طرز کے تیراکی لباس پہنے مرد و خواتین کی آزادانہ آمد و رفت کے باوجود وہاں نہ کوئی شور و غل تھا، نہ کسی بدتہذیبی کا شائبہ۔ ہر شخص اپنے دائرے میں مطمئن اور دوسروں کی پرائیویسی کا احترام کرتا ہوا نظر آتا تھا۔ مجھے یہ شائستگی، آزادی اور تہذیب کا حسین امتزاج بےحد اچھا لگا۔
ریتلے ساحل کے دائیں جانب ایک درمیانی اونچائی کی پہاڑی تھی۔ اس کے کنارے کو تراش کر سمندر کے ساتھ ساتھ ایک طویل پگڈنڈی بنائی گئی تھی تاکہ سیاح چہل قدمی کرتے ہوئے سمندر کی قربت اور گہرائی کا لطف لے سکیں۔
کچھ دیر سستا لینے کے بعد ہم نے اس ساحلی پگڈنڈی پر چہل قدمی کا فیصلہ کیا۔ یہ پتھریلی گزرگاہ پہاڑی کے دامن سے شروع ہو کر بل کھاتی ہوئی اوپر کی سمت بڑھتی چلی جاتی تھی۔ اونچائی کے ساتھ ساتھ سمندر کا رنگ سبز سے گہرا نیلا ہوتا گیا — گویا ہم پانی کی گہرائی کے ساتھ آسمان کی وسعت میں اترتے جا رہے ہوں۔
ایک طرف سمندر تھا، دوسری جانب سیاحوں کی دلچسپی کے لیے چھوٹے چھوٹے اسٹالز۔ کہیں اچانک موڑ مڑتے ہی نیچے گہرائی میں ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دیتا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لکڑی کی بنچیں تھیں جہاں تھکے قدم لمحہ بھر کو رک کر سانس لے سکتے تھے۔ سامنے نظر آتے جزیروں کا حسین منظر، پہاڑی پر اگے درخت، اور پھولوں سے لدی کیاریاں دل موہ لیتی تھیں۔
ہم خاصا آگے تک گئے مگر پگڈنڈی کی پوری مسافت طے نہ کر سکے۔ اس مختصر واک میں بھی کئی دلکش مناظر دیکھے — درختوں اور پھولوں سے لدی پہاڑی، نیچے ٹھاٹھیں مارتا نیلا سمندر، چٹانی بلندیوں سے گہرے پانیوں میں کودتے تیراک، دھیمی سروں میں چلتی سمندری ہوا، اور ایک لکڑی کی بنچ پر کندہ وہ نام، جو کسی ایسے شخص کا تھا جو اب اس دنیا میں نہیں مگر کبھی اسی مقام سے یہ منظر دیکھا کرتا ہوگا۔
ایڈریاٹک سمندر، بحیرۂ روم (Mediterranean) کا شمالی بازو ہے، اور اس کا ایک بڑا حصہ کروشیا کی مشرقی ساحلی لکیر کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا ہے۔ اس میں تقریباً بارہ سو سے زائد چھوٹے بڑے جزیرے موجود ہیں، جن میں سے بیشتر کروشیا کے ساحل کے قریب واقع ہیں۔
کروشیا کا مشرقی ساحلی خطہ ڈالمیشیا (Dalmatia)، جہاں کے دھبوں والے ڈالمیشین کتے دنیا بھر میں مشہور ہیں، اپنے جزیروں، خلیجوں اور سنگی چٹانوں کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ یہ خطہ سیاحتی اور جغرافیائی لحاظ سے نہایت پُرکشش ہے۔
یہ ساحل صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ ایک حساس ماحولیاتی نظام کے احترام کا مظہر بھی ہے۔
پگڈنڈی کی سیر کے بعد بچوں نے ساحل پر ہی مزید تفریح میں مشغول رہنے کا فیصلہ کیا، جبکہ میں اور مونا گیسٹ ہاؤس واپس جا کر کچھ دیر آرام کرنے کے ارادے سے لوٹنے لگے۔
واپسی کے راستے میں ہمیں ایک چھوٹا سا گروسری اسٹور نظر آیا۔ باہر لکڑی کی ٹوکریوں میں تازہ پھل اور سبزیاں سجی تھیں — سرخ اور سنہری سیب، سبز، پیلی اور لال شملہ مرچیں، سرخ و سبز انگور اور دمکتے ہوئے ٹماٹر۔ سب اتنے تازہ لگ رہے تھے جیسے ابھی ابھی کسی چشمے کے پانی سے دھوئے گئے ہوں۔
اسٹور کے اندر دو خواتین بلا خوف و خطر اپنے کام میں مصروف تھیں — ایک شیلف میں سامان سجا رہی تھی، دوسری کاؤنٹر پر کسی بچے کو تھیلا تھماتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔ ان کے چہروں پر اطمینان اور خوش دلی نمایاں تھی، جیسے یہاں وقت سست روی سے بہتا ہو اور زندگی بےفکری سے گزر رہی ہو۔
پورے اسٹور میں لیونڈر کی مدھم خوشبو گھلی ہوئی تھی — شاید کسی بوتل سے چھلک گئی ہو۔ ہم نے روزمرہ ضرورت کی چند چیزیں اور کچھ تازہ پھل لیے، شکریہ ادا کیا، اور گیسٹ ہاؤس کی سمت واپسی کے قدم بڑھا دیے۔
۔۔۔۔ جاری ہے
