Skip to content
Home » Blog » ایڈریاٹک کنارے، ساحلی پرمناڈ

ایڈریاٹک کنارے، ساحلی پرمناڈ

  • by

ایڈریاٹک کنارے، ساحلی پرمناڈ

دوسری قسط

✍️ شارق علی
ویلیوورسٹی

اس کی عمر بیس پچیس سال کے درمیان ہوگی، سفید فام یوگوسلاوی نین و نقش والا نوجوان۔ نام تھا ماریو۔ یہ ہمارے ایئر بی این بی کے ذریعے بک کیے گئے گھر کا منیجر تھا اور چابیوں سمیت دروازے پر ہمارا منتظر کھڑا تھا۔ اس نے گرم جوشی سے استقبال کیا، دروازہ کھولا اور سامان اندر رکھنے میں مدد کی۔
گھر ہماری توقع سے زیادہ کشادہ نکلا۔ تین مناسب سائز کے بیڈروم، ایک بڑا سا لیونگ روم جس میں نیٹ فلکس اور دیگر ٹی وی سہولیات موجود تھیں، اور ایک بالکنی، جو اس گھر کی سب سے نمایاں دلکشی ثابت ہوئی۔

گھر پہاڑی کی چوٹی پر تو نہیں، مگر خاصی بلندی پر واقع تھا۔ بالکنی میں رکھی کرسیوں پر بیٹھ کر، چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے، اردگرد کی پہاڑیوں، نیچے پھیلے درختوں اور دور تک پھیلے ساحلِ سمندر کے مناظر کا لطف اٹھایا جا سکتا تھا۔ یوں لگتا جیسے فطرت نے رنگوں کا ایک وسیع کینوس بچھا رکھا ہو۔
یورپ کے جنوب میں بسنے والا یہ چھوٹا سا ملک, کرویشیا, نیلے سمندر، سرسبز جزیروں اور پتھریلے پہاڑوں کا حسین امتزاج ہے۔ گویا قدرت نے رنگوں سے کھیلتے ہوئے ایک تصویری نظم بنا دی ہو۔

اس ملک کو اپنی تحریری قدامت پر بھی ناز ہے۔ اس کی قدیم زبان اور Glagolitic رسم الخط سلاوی قوموں کا پہلا تحریری نظام مانا جاتا ہے۔

ہم نے پہلے اپنے اپنے پسندیدہ بیڈروم میں سامان رکھا، کچن، فریج اور دیگر سہولیات کا جائزہ لیا اور ماریو سے انتظامات کی بریفنگ سنی۔ جب وہ رخصت ہوا تو ہمارا اگلا مشن یہ تھا کہ نیچے جا کر کسی اچھے سے ساحلی ریستوران میں دوپہر کا کھانا کھایا جائے۔

گھر کی بلندی سے ساحل تک پہنچنے کے لیے درمیان میں کئی درجن سیڑھیاں تھیں۔
ان ڈھلوانی سیڑھیوں اور گذرگاہوں کے دونوں جانب رنگ برنگے پھول، خوشنما جھاڑیاں اور تناور درخت تھے۔ یوں اس راستے پر اترنا اور چڑھنا بجائے خود ایک خوشگوار تجربہ اور یاد بن جاتا۔

ہمارا قیام ایک ایسی ساحلی بستی میں تھا جو سیاحوں میں نہایت مقبول اور جدید رہائشی سہولتوں سے آراستہ تھی۔ ساحل سے فاصلہ اتنا ہی تھا جتنا سی ویو اپارٹمنٹس اور کراچی کے ساحلِ سمندر کا. لیکن ان دونوں جگہوں میں ساحلی قربت کے سوا کوئی اور چیز مشترک نہ تھی۔

سیڑھیاں اترتے ہی ہم ایک پُررونق پرومناڈ پر جا پہنچے. ایک کشادہ راستہ جو مصروف شہری علاقے سے ساحل تک بنایا گیا تھا، مگر یہاں صرف پیدل چلنے کی اجازت تھی۔ نہ گاڑی، نہ موٹر سائیکل، نہ ٹریفک کا شور۔
ایک لمبی اور چوڑی گزرگاہ، جس پر مختلف ممالک کے مگر زیادہ تر سفید فام سیاح اپنے خوش رنگ ساحلی لباسوں اور بھانت بھانت کی بولیوں کے ساتھ چہل قدمی کرتے دکھائی دیتے۔

پرومناڈ کے آخری سرے پر نیلا سمندر دھوپ میں چمک رہا تھا اور لہریں ریت کو چھو کر واپس پلٹتیں۔ دوسری جانب، یعنی شہر کے مرکز کی سمت جاتے ہوئے، اسی پرومناڈ پر قطار در قطار دکانیں اور کیفے تھے۔
رنگ برنگی چھتریوں کے نیچے آئس کریم پارلرز کے سامنے بچوں کی قطاریں، کہیں یادگار اشیا بیچنے والی چھوٹی دکانیں، تو کہیں واٹر اسپورٹس کے اسٹال۔ دونوں طرف فاسٹ فوڈ آؤٹ لٹس کے ساتھ روایتی ریستوران بھی موجود تھے۔
کھلے شیشوں اور بانس کی کرسیوں والے ریستورانوں میں بیٹھے سیاح کھانے کے ساتھ سمندر کی ٹھنڈی ہوا اور نرم دھوپ کے امتزاج سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ یہ منظر کسی تہوار کی بھیڑ کی طرح رنگین اور پرجوش دکھائی دیتا تھا۔

کافی تلاش کے بعد ہم نے ایک پسندیدہ ریستوران ڈھونڈ نکالا جہاں حلال چکن بھی دستیاب تھی۔ کونے میں بیٹھ کر جب مینو کھولا تو روایتی کھانوں کی تفصیل دلچسپ لگی:

چیواپی (Ćevapi): چھوٹے کباب جیسے رول جو روٹی کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔
پیکا (Peka): بیف یا مرغی کو آہنی ڈھکن کے نیچے کوئلوں پر آہستہ آہستہ پکایا جاتا ہے۔

ساحلی شہر ہونے کے باعث مچھلی اور سی فوڈ کے ذائقے بھی مینو میں جگہ جگہ موجود تھے—خاص طور پر بلیک رِزوتو (Black Risotto)، جو کٹل فش سے بنایا جاتا ہے اور اپنے انوکھے رنگ و ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔

مگر ہم نے چکن اور ویجیٹیریئن کھانے کا آرڈر دیا۔ تیز مصالحوں والے دیسی ذائقے یہاں میسر تو نہ تھے، مگر ہم نے غذائیت کو پیشِ نظر اور مصالحوں کی یاد کو پس منظر میں رکھا۔
یوں یہ کھانا ہمارے لیے قابلِ برداشت بن گیا۔

۔۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *