Skip to content
Home » Blog » ایڈریاٹک کنارے، ڈبراونک کی جانب

ایڈریاٹک کنارے، ڈبراونک کی جانب

  • by

ایڈریاٹک کنارے، ڈبراونک کی جانب

پہلی قسط

✍️ شارق علی
ویلیوورسٹی

سیاہ رنگ کی وین ہموار مگر بل کھاتی اور موڑ کاٹتی سڑک پر رواں دواں تھی۔ کم بلندی کی پہاڑیوں پر جدید طرز کی تعمیر شدہ سڑک کے ایک جانب دکھتا چھپتا ایڈریاٹک سمندر کا نیلا ساحل تھا، اور دوسری جانب رنگ برنگے پھولوں سے لدے چیری بلاسم درختوں کا سلسلہ۔ کہیں گلابی، کہیں فیروزی پھولوں سے لدے درخت، اور کسی درخت پر ان دونوں رنگوں کا حیرت انگیز امتزاج بھی نظر آ جاتا۔ ہوا کے جھونکوں سے شاخیں جھومتیں تو یوں لگتا جیسے راستہ ہمارا خیر مقدم کر رہا ہے۔

نیچے ساحل پر سمندر کا پانی دھوپ میں دمک رہا تھا۔ سبز مائل نیلے پانیوں میں اردگرد کے جزیرے خواب ناک منظر پیش کر رہے تھے۔ ہم ایئرپورٹ سے کرویشیا کے شہر ڈبراونک کے سٹی سینٹر کی جانب رواں دواں تھے، جہاں ہمیں اگلے پانچ دن قیام کرنا تھا۔

کرویشیا جنوب مشرقی یورپ کا وہ دلکش ملک ہے جو ایڈریاٹک سمندر کے نیلگوں ساحل اور بارہ سو سے زیادہ جزیروں پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا دارالحکومت زاگریب ہے اور آبادی لگ بھگ اڑتیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ شمال میں سلووینیا اور ہنگری، مشرق میں سربیا اور بوسنیا ہرزیگووینا، جنوب میں مونٹے نیگرو اور سمندر کے اُس پار اٹلی اس کے ہمسائے ہیں۔

جیسے جیسے ہم آگے بڑھے، پہاڑیوں کے دامن میں فصیلوں سے گھرا ایک تاریخی شہر نمایاں ہونے لگا۔ صدیوں پرانی دیواروں میں گھرا ہوا ڈبراونک، جو اب اس فصیل دار حصے سے نکل کر دور دور تک پھیل چکا ہے۔ یہ شہر یورپ کے محبوب ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں جدید اور قدیم کا بہترین امتزاج نظر آتا ہے۔

ہم نے پہاڑی سڑک کی بلندی سے والڈ سٹی کا منظر دیکھا۔ چاروں جانب بلند فصیلیں اور ہر کونے پر چوکی دار مینار۔ حدود کے اندر گلابی اینٹوں سے ڈھکی چھتوں والے گھر۔ یونیسکو نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔ یہ وقت کی گرد میں چھپی ہوئی ایک زندہ کہانی ہے، جسے ہمیں اندر جا کر دیکھنا اور سمجھنا تھا۔

صبح جب ہم لندن میں اپنے گھر سے روانہ ہوئے تو دن خوشگوار تھا۔ ایئرپورٹ پر رسمی کارروائی بھی بخیر و خوبی مکمل ہوئی۔ ڈیوٹی فری کی دمکتی دکانوں سے گزر کر اور مختصر ناشتے کے بعد ہم نے فلائٹ لی۔

اترتے وقت جہاز کی کھڑکی سے ایڈریاٹک سمندر کا منظر نہایت دلکش تھا۔ دھوپ میں نہایا ہوا ساحل اور قرب و جوار میں بکھرے چھوٹے بڑے جزائر اپنی پوری رعنائی کے ساتھ جلوہ گر تھے۔

کرویشیا ایک دلچسپ اور دلکش ملک ہے۔ اس کے پہاڑی سلسلے ڈائنا‌رک الپس میں جا بجا بکھری جھیلیں اور جھرنے ہیں۔ اس کے جزائر اور پتھریلے ساحل فطرتی حسن کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ معیشت کی بنیاد زیادہ تر سیاحت پر ہے، جو قومی خزانے کا سب سے روشن ستون ہے۔ زیتون کے باغات، انگور کی بیلیں، جہاز سازی اور مقامی صنعتیں بھی اس کے معاشی کینوس کے رنگوں میں شامل ہیں۔ یہ ملک 2013 میں یورپی یونین میں شامل ہوا۔ 2023 سے یہاں یورو رائج ہو چکا ہے اور شینگن کی سرحدیں کھلنے کے بعد یہ سرزمین سیاحوں کی آسان دسترس میں آ گئی ہے۔

اب ہماری وین شہر کے مضافات چھوڑ کر جدید مرکز میں داخل ہو چکی تھی۔ چھوٹا لیکن تمام جدید سہولتوں سے آراستہ شہر۔ مصروف شاہراہیں، اونچی عمارتیں، ہوٹلوں کی قطاریں اور بسوں کی آمد و رفت۔ زندگی کی روانی اور سہولتوں کی فراوانی، دونوں بیک وقت سامنے تھیں۔

اس شہری حصے سے گزر کر وین نے اچانک رخ موڑا اور مرکزی سڑک کو چھوڑ دیا۔ اب ہم ایک پگڈنڈی نما سڑک پر تقریباً عمودی چڑھائی چڑھنے لگے۔ غالباً اس بل کھاتی چھوٹی سی سڑک پر صرف مقامی لوگ ہی گاڑی چلانے کے اہل تھے۔
تنگ اور گھماؤ دار سڑک پر ہمارا ڈرائیور بڑی مہارت سے گاڑی چڑھاتا رہا اور بالآخر اس گھر کے سامنے لا کھڑا کیا جہاں ہماری رہائش کا انتظام تھا۔ یہ ایک پہاڑی کی بلندی پر واقع سیلف کیٹرنگ تھری بیڈ روم ہاؤس تھا، ہر سہولت سے آراستہ۔ مالک مکان کو فون پر مطلع کیا تو وہ چابیاں لیے ہمارا منتظر نکلا۔ پہاڑ کی اونچائی پر واقع اس دلکش گھر کی سفید دیواریں اور سرخ چھت گویا ہمارے چند روزہ قیام کا پرتپاک استقبال کر رہی تھیں۔
۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *