ہیڈونک ٹریڈمل: خوشی یا غم دیرپا کیوں نہیں؟
شارق علی
ویلیو ورسٹی
نفسیات میں ہیڈونک ٹریڈمل ایک سادہ مگر گہرا تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ساتھ چاہے کچھ بہت اچھا ہو یا بہت بُرا، کچھ وقت گزرنے کے بعد انسان دوبارہ اپنی پرانی ذہنی کیفیت میں آ جاتا ہے۔
مثال کے طور پر جب
نئی اور پسند کی نوکری ملتی ہے تو خوشی عروج پر ہوتی ہے،
چند مہینوں بعد وہی نوکری ایک معمول بن جاتی ہے۔
نیا موبائل یا گاڑی شروع میں بہت خوشی دیتی ہے،
پھر وہ خوشی آہستہ آہستہ عادت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
یہ بالکل ایسے ہے جیسے ٹریڈمل پر دوڑنا۔ آپ بہت حرکت کر رہے ہوتے ہیں، مگر جذباتی طور پر وہیں کے وہیں موجود رہتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جلدی عادت ڈال لینا شامل ہے۔
دماغ آرام، آسائش اور کامیابی کو جلد “نارمل” مان لیتا ہے،
اور جو چیز نارمل ہو جائے، وہ زیادہ خوشی نہیں دیتی۔
اصل سبق کیا ہے؟
صرف زیادہ چیزوں کے پیچھے دوڑنا ہمیں مستقل خوش نہیں کرتا۔
پائیدار خوشی زیادہ تر ان چیزوں سے آتی ہے جو نظر نہیں آتیں، جیسے:
شکرگزاری
بامعنی رشتے
زندگی کا واضح مقصد
اور دوسروں کے لیے فائدہ مند ہونا
اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ خوشی باہر نہیں، ہمارے رویّے میں ہے،
تو شاید ہم ٹریڈمل سے اتر کر واقعی آگے بڑھ سکیں۔
