Skip to content
Home » Blog » گو بیبلی ٹیپے: تہذیبی ارتقاء کی گتھی

گو بیبلی ٹیپے: تہذیبی ارتقاء کی گتھی

  • by

گو بیبلی ٹیپے: تہذیبی ارتقاء کی گتھی

شارق علی
وہلیوورسٹی

ترکی کے جنوب مشرق میں، شانلی عرفا کے قریب ایک پہاڑی ڈھلوان پر، زمین کی تہوں میں چھپا ایک راز دنیا کے سامنے آیا۔ یہ ہے گو بیبلی ٹیپے—ایک ایسا مقام جو وقت کے حساب کتاب کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ آثار اتنے پرانے ہیں کہ ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ کیا انسان نے پہلے کھیت جوتے یا خدا کا گھر بنایا؟

یہ جگہ آج سے بارہ ہزار برس پہلے کی ہے۔ جی ہاں، اسٹون ہینج سے چھ ہزار سال پرانی۔ یہاں عظیم الجثہ T-شکل ستون کھڑے ہیں، ہر ایک کئی ٹن وزنی۔ ان ستونوں پر جانوروں کی تصویریں تراشی گئی ہیں: شیر کی جھپٹ، سانپ کی لپٹ، بچھو کا ڈنگ، پرندوں کی پرواز۔ جیسے پتھر بول اٹھے ہوں اور اس دور کے انسان کی کہانیاں سناتے ہوں۔ حیرت یہ ہے کہ اس زمانے میں نہ پہیہ تھا، نہ دھات کے اوزار، اور نہ ہی باربرداری کے جانور۔ پھر بھی انسان نے یہ معجزہ تخلیق کیا۔

گو بیبلی ٹیپے کی دریافت 1990 کی دہائی میں جرمن ماہرِ آثارِ قدیمہ کلاوس شمڈٹ نے کی۔ اس دریافت نے انسانی تاریخ کی سمجھ کا رخ بدل دیا۔ ہم سمجھتے تھے کہ پہلے انسان نے کھیتی باڑی سیکھی، بستیاں بسائیں، پھر مذہب اور عبادت آئی۔ مگر یہ مندر اس کہانی کو الٹ دیتا ہے۔ یہاں لگتا ہے کہ اجتماعی عقیدہ اور روحانیت نے ہی انسان کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا اور کھیتی باڑی کی طرف مائل کیا۔ گویا تہذیب کی ماں کھیتی باڑی نہیں، عبادت تھی۔

کچھ محققین اسے بائبل کے ایڈن کے باغ سے بھی جوڑتے ہیں، کیونکہ یہ وہی خطہ ہے جہاں انسان نے پہلی بار اجتماعی رہائش اختیار کی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ جگہ کسی ایک قبیلے کی نہیں بلکہ مختلف قبائل کا مشترکہ اجتماع تھی۔ ایک ایسا مندر جہاں شکاری انسان اپنے خداؤں کو خوش کرنے اور کائنات کے اسرار کو سمجھنے جمع ہوتے تھے۔

آج یہ مقام یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج سائٹ ہے۔ جدید واک ویز اور شیشے کی چھتوں کے نیچے جب آپ ان ستونوں کو دیکھتے ہیں تو لگتا ہے جیسے وقت کا پردہ ہٹ گیا ہو۔ آپ کے سامنے انسانیت کی پہلی عبادت گاہ ہے، جو ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کی فطرت میں آغاز سے ہی جستجو اور ماورائیت کی پیاس موجود تھی۔

گو بیبلی ٹیپے اب بھی ایک معمہ ہے۔ لیکن شاید یہی اس کی سب سے بڑی کشش ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان ہمیشہ سے اپنے سے بڑے کسی راز کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *