گرین لینڈ کس کا ؟ امریکہ یا ڈنمارک
شارق علی
ویلیوورسٹی
فلم Against the Ice کی روشنی میں ایک مہم جو تاریخی کہانی
یہ ایک کم معروف مگر نہایت معنی خیز تاریخی حقیقت ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں ریاستہائے متحدۂ امریکہ (United States of America) نے گرین لینڈ (Greenland) کے ایک حصے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرنے کی کوشش کی تھی۔
یہ دعویٰ فوجی طاقت یا براہِ راست قبضے پر مبنی نہیں تھا، بلکہ ایک نقشاتی مفروضے پر کھڑا تھا۔
یہ مفروضہ یہ تھا کہ گرین لینڈ کے شمالی حصے میں ایک آبی راستہ موجود ہے، جسے پیئری چینل (Peary Channel) کہا جاتا تھا، اور جو مبینہ طور پر اس سرزمین کو دو الگ زمینی حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
اگر یہ چینل واقعی موجود ہوتا تو شمالی گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ ایک مضبوط بنیاد حاصل کر سکتا تھا۔
اسی اختلاف کو سلجھانے کے لیے ڈنمارک (Denmark) نے سن 1909 میں ایک غیر معمولی مگر خاموش قدم اٹھایا۔
اس مقصد کے لیے ایک سائنسی مہم روانہ کی گئی جسے الاباما مہم (Alabama Expedition) کہا جاتا ہے۔
اس مہم کا مقصد نہ فتح تھا، نہ قبضہ۔
اس کے سامنے ایک سادہ مگر فیصلہ کن ہدف تھا:
سائنسی شواہد اور مستند نقشے حاصل کرنا۔
فلم Against the Ice اس تاریخی مہم کو محض بقا کی ایک داستان کے طور پر نہیں، بلکہ ایک خاموش مگر فیصلہ کن جغرافیائی اور سیاسی معرکے کے طور پر پیش کرتی ہے۔
فلم دکھاتی ہے کہ کس طرح
کیپٹن اینار مِکلسن (Ejnar Mikkelsen)
اور ان کے نوجوان ساتھی
آئیور آئیورسن (Iver Iversen)
جان ہتھیلی پر رکھ کر برفانی جہنم میں ان دستاویزات کی تلاش میں نکلتے ہیں جو ایک پچھلی ناکام مہم وہیں چھوڑ گئی تھی۔
یہی دستاویزات اور نقشے اس پورے تنازعے کا اصل مرکز تھے۔
ان میں درج مشاہدات واضح طور پر یہ ثابت کرتے تھے کہ:
پیئری چینل کا کوئی حقیقی وجود نہیں تھا۔
یہ محض نقشہ سازوں کی ایک غلط فہمی تھی، حقیقت نہیں۔
یوں سائنسی شواہد کی بنیاد پر یہ بات ثابت ہو گئی کہ گرین لینڈ درحقیقت ایک ہی زمینی اکائی ہے،
اور اس پر ڈنمارک کا حقِ ملکیت درست ہے۔
یہ فیصلہ نہ کسی عدالت میں سنایا گیا،
نہ کسی جنگی معرکے میں طے پایا۔
یہ فیصلہ
برف میں لکھا گیا سچ تھا
جسے انسانی برداشت، مشاہدے
اور سائنسی دیانت کے ذریعے رقم کیا گیا۔
فلم ہمیں یہ گہرا سبق دیتی ہے کہ بین الاقوامی تنازعات ہمیشہ جنگ، طاقت یا دباؤ سے حل نہیں ہوتے۔
بعض اوقات
دو کمزور، بھوکے اور تنہا انسان
پورے عالمی جغرافیے کی سمت بدل دیتے ہیں۔
Against the Ice ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:
نقشے صرف سیاہی سے نہیں بنتے،
وہ انسان کی سچائی،
قربانی
اور ثابت قدمی سے بنتے ہیں۔
