کیا واقعی “کچھ نہیں” سے “کچھ” پیدا ہو سکتا ہے؟ ✨🌌
شارق علی
ویلیوورسٹی
(نو سے نوّے سال کے بچوں کے لیے) 👶👴
حال ہی میں امریکہ کی ایک بڑی سائنسی تجربہ گاہ، Brookhaven National Laboratory میں سائنس دانوں نے ایک حیرت انگیز مشاہدہ کیا۔ وہاں موجود طاقتور مشین Relativistic Heavy Ion Collider میں پروٹونز کو روشنی کی رفتار کے قریب لا کر آپس میں ٹکرایا گیا۔ ⚡
نتیجہ کیا نکلا؟ 🤔
ایسے ذرات ظاہر ہوئے جو بظاہر “خالی خلا” سے پیدا ہوتے دکھائی دیے!
لیکن ٹھہریے… 🚦
کوانٹم فزکس ہمیں بتاتی ہے کہ خلا واقعی خالی نہیں ہوتا۔ خلا کے اندر نہایت مختصر وقت کے لیے ننھے ننھے عارضی ذرات بنتے اور فوراً غائب ہو جاتے ہیں۔ انہیں “ورچوئل پارٹیکلز” کہا جاتا ہے۔ 👻
عام حالات میں ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے۔ مگر جب پروٹون تیز رفتاری سے ٹکراتے ہیں تو بے پناہ توانائی پیدا ہوتی ہے۔ 🔥
یہی توانائی ان عارضی ذرات کو “حقیقی” ذرات میں بدل دیتی ہے — یعنی وہ لمحاتی وجود سے نکل کر قابلِ مشاہدہ مادہ بن جاتے ہیں۔ 🧲✨
سائنس دانوں نے خاص طور پر ایسے ذرات کے جوڑے دیکھے جن کی گھومنے کی سمت (spin) ایک جیسی تھی۔ 🌀
یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ پہلے سے ایک کوانٹم تعلق میں جڑے ہوئے تھے۔ گویا خلا کے اندر موجود ایک پوشیدہ رشتہ حقیقت میں بدل گیا! 🤝⚛️
یہ دریافت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کائنات کا “خلا” خاموش نہیں بلکہ توانائی سے بھرا ہوا ہے۔ 🌠
اور شاید یہی خاموش توانائی ہماری پوری کائنات کی بنیاد ہو… 🌍💫
سوچئے…
کیا واقعی “کچھ نہیں” بھی اپنے اندر “سب کچھ” چھپائے رکھتا ہے؟ 🤯✨
