کوانٹم فزکس کی شروعات: میکس پلانک اور آئن سٹائن کا بڑا جادو!
پہلا سبق
ترتیب و تدوین:
شارق علی
ویلیو ورسٹی
ایک دفعہ کا ذکر ہے، سائنس کی دنیا میں… سب کو لگتا تھا کہ روشنی اور توانائی کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو چکا ہے۔ مگر پھر—بووم!
ایک جرمن سائنسدان میکس پلانک آیا اور اس نے سب کچھ بدل دیا!
میکس پلانک کی زبردست دریافت (1900)
ذرا سوچو! تم آگ کے قریب بیٹھے ہو اور اس کی گرمی محسوس کر رہے ہو۔ کبھی غور کیا ہے کہ آگ کا رنگ کبھی سرخ سے نارنجی اور پھر نیلا کیوں ہو جاتا ہے؟
پرانے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ روشنی اور گرمی بلکل ہموار بہتی ہیں، جیسے پانی کی دھار۔ مگر پلانک نے حیرت انگیز بات دریافت کی!
اس نے سمجھا اور سمجھایا کہ توانائی چھوٹے چھوٹے “پیکٹوں” میں آتی ہے، بلکل ویسے جیسے پاپ کارن ایک ساتھ نہیں پھٹتا بلکہ ایک ایک دانہ الگ سے نکلتا ہے!
اس نے ان چھوٹے توانائی پیکٹوں کو “کوانٹا” کہا! اور اسی لمحے کوانٹم فزکس کی دنیا کا آغاز ہو گیا!
آئن سٹائن کی روشنی والی چمکدار دریافت (1905)
چند سال بعد، ایک عظیم سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے ایک اور انوکھی بات کہہ دی!
ذرا تصور کرو! تم ایک فلیش لائٹ سے اندھیرے کمرے میں روشنی کر رہے ہو۔ پہلے سائنسدان سمجھتے تھے کہ روشنی لہروں
کی طرح حرکت کرتی ہے، جیسے پانی میں موجیں۔ مگر آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ روشنی چھوٹے چھوٹے ذرّات (فوٹونز) سے بھی بنی ہوتی ہے!
کیوں نہ تجربہ کر لیا جاہے؟
سوچو! تم دیوار پر چھوٹے چھوٹے چاکلیٹ کے ٹکڑے
مار رہے ہو۔ اگر وہ تیزی سے لگیں تو دیوار سے کچھ پینٹ اکھڑ بھی سکتا ہے!
اسی طرح، آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ روشنی کے فوٹونز جب دھات پر لگتے ہیں تو وہ الیکٹرانز کو باہر نکال سکتے ہیں! اسے فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کہا جاتا ہے، اور اس نے یہ راز کھولا کہ روشنی کبھی لہر
اور کبھی ذرہ
بن جاتی ہے!
کوانٹم کا انقلاب!
آئن سٹائن کی یہ دریافت اتنی زبردست تھی کہ اس نے کائنات کو سمجھنے کا ہمارا طریقہ ہی بدل دیا!
یہ ایسا تھا جیسے ایک جادوئی دنیا کا دروازہ کھل گیا ہو جہاں ذرّات بیک وقت دو جگہ ہو سکتے ہیں، غائب ہو کر واپس آ سکتے ہیں، اور کبھی کبھار تو فوراً ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں!
سبق کیا ہے؟
توانائی چھوٹے “کوانٹا” پیکٹوں میں آتی ہے!
روشنی کبھی لہر
اور کبھی ذرہ
کی طرح برتاؤ کرتی ہے!
کوانٹم فزکس عجیب ہے، مگر یہی ہمارا مستقبل ہے!
اور یوں میکس پلانک اور آئن سٹائن نے سب سے زبردست سائنسی کہانی کی شروعات کی—کوانٹم فزکس!
مزید کوانٹم حیرتوں کے لیے تیار ہو جاؤ!
یہ کہانی آٹھ سال سے اسی سال کے بچوں کے لیے لکھی گئی ہے
اسے بڑوں کی پہنچ سے دور رکھو .