Skip to content
Home » Blog » کراوتسا آبشاریں، ایڈریاٹک کنارے

کراوتسا آبشاریں، ایڈریاٹک کنارے

  • by

🌿 کراوتسا آبشاریں، ایڈریاٹک کنارے

دسویں قسط

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہماری کوچ بوسنیا کے شہر موستار سے کراوتسا نیشنل پارک کی جانب رواں دواں تھی۔ مناظر مسلسل بدل رہے تھے۔
بوسنیا ہرزیگووینا نسبتاً چھوٹا مگر بے حد خوبصورت ملک ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً اکاون ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی لگ بھگ تینتیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس مختصر سے ملک میں بھی تین بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں: بوسنیائی، سربیائی اور کروشیائی۔ معاشرت میں سادگی، مہمان نوازی اور خاندان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ معیشت زراعت، سیاحت اور چھوٹی صنعتوں پر قائم ہے، جبکہ پہاڑوں، دریاؤں اور سرسبز وادیوں پر مشتمل مخصوص جغرافیہ اسے قدرتی حسن سے مالا مال کرتا ہے۔
کوچ کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے اردگرد مغربی یورپ جیسی چمکتی دمکتی خوشحالی اور گھنا سبزہ تو نظر نہ آیا، مگر جا بجا گھنے درختوں کے جھنڈ، جھاڑیوں سے ڈھکی ہلکی اونچی پہاڑیاں ضرور دکھائی دیں۔
راستے میں چند قصبوں سے گزر ہوا۔ نیم خوشحال گھر، سامنے پارک کی ہوئی پرانے ماڈل کی گاڑیاں، اور سادگی میں لپٹی زندگی—مگر اس سادگی میں ایک خاموش وقار اور متانت ضرور تھی۔ چھوٹے گھر، سرخ چھتیں، پرانی طرز کی دکانیں، اور گھروں کے باہر بیٹھے باتیں کرتے لوگ۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں زندگی کی رفتار اب بھی سست ہے۔ قصباتی معیشت زیادہ تر زراعت، لکڑی کے کام اور مقامی تجارت پر قائم ہے۔ کم وسائل کے باوجود لوگ قناعت پسند اور باہمی تعاون پر یقین رکھتے ہیں۔ جنگوں کی یادیں اب بھی بعض عمارتوں اور چہروں پر جھلکتی ہیں، مگر زندگی آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
کوچ جب کراوتسا نیشنل پارک کی حدود میں داخل ہوئی تو منظر یکسر بدلنے لگا۔ ہر طرف سبزہ، تازگی اور فطرت کی شادابی پھیلتی چلی گئی۔ کوچ مرکزی دروازے کے سامنے جا کر رکی۔ ہماری گائیڈ نے فی کس دس یورو جمع کیے اور ٹکٹ گھر کے اندرونی گیٹ کی طرف روانہ ہو گئی۔ چند منٹ بعد واپس آ کر اس نے سب کے ہاتھ میں ٹکٹ تھما دیے۔ سیاح ایک ایک کر کے مہذب انداز میں کوچ سے باہر آئے—بغیر جلد بازی کے، اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے، دوسروں کے احترام کے ساتھ۔
یہاں دو راستے تھے: یا تو دو فرلانگ لمبی پیدل پگڈنڈی پر چلتے ہوئے مرکزی آبشاروں تک پہنچا جائے، یا ایک یورو کا ٹکٹ لے کر ٹریک پر چلنے والی مونو ریل طرز کی گاڑی میں سوار ہو جایا جائے، جو دو منٹ میں مرکزی مقام تک پہنچا دیتی تھی۔ ہم نے گاڑی کا انتخاب کیا، جبکہ بچوں نے پیدل چلنا پسند کیا۔ دورانِ سفر لکڑی سے بنا پیدل راستہ اور تیز بہتی ایک چھوٹی سی ندی بھی ساتھ ساتھ چلتی رہی۔
آخرکار ہم کراوتسا نیشنل پارک کے مرکزی مقام پر جا پہنچے۔ یہ دو چھوٹی مگر دلکش جھیلوں کا کنارہ تھا۔ سامنے نظر دوڑائیں تو پانچ یا چھ آبشاریں پہاڑی چٹانوں کے مختلف رخوں سے تیس سے چالیس میٹر کی بلندی سے نیچے ان جھیلوں میں گرتی دکھائی دیتی تھیں۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے قدرت نے سبزے سے ڈھکے پہاڑوں کے بیچ سفید ریشمی پردے جھیل کی سطح تک بچھا دیے ہوں۔ شور مچاتا ہوا پانی نیچے آ کر شفاف، فیروزی جھیل میں اترتے ہی پرسکون ہو جاتا۔ پانی اس قدر صاف تھا کہ کنارے پر کھڑے لوگ جھیل کی تہہ میں پڑے گول پتھر صاف دیکھ سکتے تھے۔ جھیل کی گہرائی شاید چار پانچ فٹ سے زیادہ نہ ہو گی، اسی لیے زیادہ تر لوگ، خاص طور پر بچے، تیراکی میں مصروف تھے۔ ان میں ہمارے بچے بھی شامل ہو گئے۔
ہم کنارے پر بیٹھے یا کھڑے لوگوں کے چہروں کو ٹھنڈی پھوار بار بار چھوتی، اور گرتے جھرنوں کا مسلسل شور کسی مدھر موسیقی کی طرح پورے ماحول میں گونجتا رہتا۔
جھیل کے کنارے مقامی لکڑی اور اینٹوں سے بنے چھوٹے بڑے ریستورانوں کی قطار تھی۔ ہم سمیت کئی سیاح وہاں بیٹھے کھانے پینے میں مصروف تھے۔ بچوں نے جھیل میں نہانے کو ترجیح دی، جبکہ میں اور مونا خاموشی، چائے اور منظر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے فطرت کے حسین مناظر اور انسانی سہولیات نے یہاں ایک دوستانہ اور پُرامن معاہدہ کر لیا ہو۔
یہ آبشاریں، جھیل، بہتا ہوا پانی—ایک دوسرے میں گرتا، ملتا، آگے بڑھتا، چٹانوں سے پھسلتا، کہیں ہموار سطح پر پھیل کر آئینہ بن جاتا—یہ سب انسانی انجینئرنگ کا کمال نہیں تھا۔ یہ فطرت تھی، جسے یہاں اس کی اصل حالت میں محفوظ کر دیا گیا تھا۔
اس وقت پارک میں ڈیڑھ دو سو کے قریب لوگ موجود تھے۔ بیشتر یورپی مرد و خواتین، اکثریت تیراکی کے لباس میں—مگر حیرت انگیز طور پر اتنے ہجوم کے باوجود نہ بدتہذیبی تھی، نہ بدنظمی، نہ شور، نہ دھکم پیل، اور نہ ہی کوئی تلخ یا بے ہودہ جملہ سنائی دیتا تھا۔ ہر شخص دوسرے کی پرائیویسی کا خیال رکھتا اور ایک دوسرے کا احترام کرتا نظر آتا تھا۔ مغربی لباس اور طرزِ زندگی کے باوجود رویّے مہذب اور فاصلے باوقار تھے۔
مجھے کراچی کے ساحل پر فیملی پکنک منانے والوں کی بے بسی یاد آ گئی۔ اخلاقیات کو اکثر مذہب سے جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں اس کا گہرا تعلق تعلیم، تربیت اور ثقافت سے ہوتا ہے—اور اس احترام سے جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے لیے دل میں رکھنا چاہیے۔
یہاں تیراکی کے لباس میں موجود مرد و زن کسی بلند بانگ اخلاقی دعوے کے بغیر ایک مختلف سچ پیش کر رہے تھے:
لحاظ، پرائیویسی کی حرمت، نظم و ضبط، قانون اور انسانی قدروں کا احترام۔
کاش ہم بھی اپنے ملک میں عوامی مقامات پر خاندان کے ساتھ آنے والوں کو ایسا ہی تحفظ اور احترام فراہم کر سکیں۔
ہم نے تقریباً دو گھنٹے ان آبشاروں کے کنارے گزارے۔ وقت کا احساس ہی نہیں ہوا۔ مقررہ وقت پر پیدل واپس مرکزی گیٹ تک پہنچے اور پھر کوچ کا سفر دوبارہ شروع ہوا۔
بوسنیا ہرزیگووینا کی سرزمین کو اگر قدرت نے کسی خاص نعمت سے نوازا ہے تو وہ اس کے دریا ہیں۔ اب ہم ڈبروونک واپسی کے سفر پر رواں دواں تھے، مگر ہمیں ان دریاؤں کے کنارے آباد خوبصورت وادیوں سے گزرنا تھا۔۔۔ جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *