Skip to content
Home » Blog » ڈننگ–کروگر ایفیکٹ :جب کم علمی یقین میں بدل جائے

ڈننگ–کروگر ایفیکٹ :جب کم علمی یقین میں بدل جائے

  • by

ڈننگ–کروگر ایفیکٹ
جب کم علمی یقین میں بدل جائے

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہم روزمرہ زندگی میں بارہا ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جو غیر معمولی اعتماد کے ساتھ ہر موضوع پر حتمی اور قطعی رائے دینے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ حیرت کی بات یہ ہوتی ہے کہ اس اعتماد کے پیچھے اکثر نہ گہرا مطالعہ ہوتا ہے، نہ تجربہ، اور نہ ہی کوئی مضبوط دلیل۔ اس کے برعکس، یہ اعتماد عموماً سطحی علم اور سرسری سوچ پر قائم ہوتا ہے۔ نفسیات کی زبان میں اس رویّے کو ڈننگ کروگر ایفیکٹ کہا جاتا ہے۔
یہ اصطلاح دو ماہرینِ نفسیات، ڈیوڈ ڈننگ اور جسٹن کروگر، کے نام سے منسوب ہے۔ اس نظریے کے مطابق کم جاننے والا شخص اکثر اپنی کم علمی سے بے خبر رہتے ہوئے خود کو زیادہ جاننے والا سمجھنے لگتا ہے، جبکہ حقیقی علم رکھنے والا انسان عموماً محتاط، متجسس اور مسلسل سوال کرنے والا رویہ اختیار کرتا ہے۔
مثال کے طور پر، کوئی شخص چند یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر صحت، معیشت یا تعلیم جیسے پیچیدہ موضوعات پر فیصلے صادر کرنے لگتا ہے، یا سوشل میڈیا پر آدھا مضمون پڑھ کر ایک مکمل نظریہ پیش کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص گہرا مطالعہ اور مشاہدہ رکھتا ہے، وہ اپنی بات ناپ تول کر، محتاط الفاظ میں اور ترمیم و اختلاف کی گنجائش کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ یہ اعتماد اور فہم کے درمیان فرق کی دو متضاد مثالیں ہیں۔
یہ رجحان مذہبی اور سیاسی گفتگو میں خاص طور پر نمایاں ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ پورے یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دینی یا سیاسی صورتحال کے ہر پہلو کو مکمل طور پر سمجھتے ہیں، حالانکہ ان کے دلائل میں نہ منطقی استدلال ہوتا ہے، نہ سیاق و سباق کی سمجھ، اور نہ ہی مختلف آراء سے واقفیت۔ ایسے افراد سوال کرنے کو گستاخی اور اختلافِ رائے کو گمراہی قرار دینے لگتے ہیں۔
اس کے برعکس، ایک سنجیدہ شخص, خصوصاً عالم یا طالبِ علم, اپنی بات دلیل، حوالہ اور فہم کے ساتھ پیش کرتا ہے، اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ علم کوئی بند دروازہ نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔
ڈننگ کروگر ایفیکٹ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بلند آواز ہمیشہ سچ کی علامت نہیں ہوتی۔ اصل دانائی عاجزی میں پوشیدہ ہے. اس شعور میں کہ ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے۔ شاید یہی رویہ ہمیں بہتر انسان، بہتر مکالمہ کرنے والا، اور ایک بہتر معاشرہ بنا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *