چٹان پر لکھی تاریخ
دولت آباد قلعہ
شارق علی
ویلیوورسٹی
ذرا تصور کیجیے…
ایک اکیلی، مخروطی چٹان، جو زمین سے تقریباً پچاس میٹر بلند ہو۔
اس کے دامن میں خاموش میدان، اور اوپر ایسی تعمیر، جو یوں محسوس ہو جیسے تاریخ نے خود چٹان کا روپ دھار لیا ہو۔
یہ کوئی داستان یا دیومالائی قصہ نہیں،
یہ دولت آباد قلعے کی کہانی ہے۔
ایک ایسا قلعہ جو وقت، طاقت اور انسانی عقل کے ملاپ سے وجود میں آیا۔
دیوتاؤں کی پہاڑی سے دولت کے شہر تک کا سفر۔
بارہویں صدی میں یادَوَہ خاندان نے اس قلعے کی بنیاد رکھی۔
اس وقت اسے دیواگیری کہا جاتا تھا، یعنی دیوتاؤں کی پہاڑی۔
نام ہی اس بات کا اعلان تھا کہ یہ جگہ عام نہیں، خاص ہے۔
یہ قلعہ کسی ہموار زمین پر نہیں، بلکہ ٹھوس چٹان کو تراش کر بنایا گیا۔
چاروں طرف عمودی دیواریں، نیچے گہری خندق،
اور اوپر جانے کے لیے تنگ، پیچیدہ اور گھومتے ہوئے راستے۔
ایسے راستے جو دشمن کو صرف جسمانی ہی نہیں، بلکہ ذہنی طور پر بھی تھکا دیتے تھے۔
یہ ایک ایسا قلعہ تھا جو صرف دیواروں سے محفوظ نہیں تھا،
بلکہ دولت آباد کی اصل طاقت اس کا دفاعی فلسفہ تھا۔
یہاں جنگ صرف تلواروں سے نہیں لڑی جاتی تھی،
یہاں دشمن کے حواس پر حملہ کیا جاتا تھا۔
اندھیری سرنگیں، جہاں روشنی اچانک ختم ہو جاتی۔
اچانک موڑ، جن پر گھوڑے اور ہاتھی بے بس ہو جاتے۔
سرنگوں میں بسنے والی چمگادڑیں، جو یکایک دشمن پر ٹوٹ پڑتیں۔
اوپر سے گرم تیل یا پتھر گرانے کے راستے۔
یہ قلعہ ایک زندہ جال کی مانند تھا،
جو دشمن کو آہستہ آہستہ اپنی گرفت میں لے لیتا تھا۔
پانی، عقل اور خود کفالت
ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ اس قلعے میں پانی کی کمی کبھی فیصلہ کن مسئلہ نہیں بنی۔
چٹان کے اندر بنائے گئے حوض بارش کے پانی کو محفوظ رکھتے تھے۔
محاصرے مہینوں چل سکتے تھے،
مگر قلعہ خود کفیل رہتا تھا۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
عظیم تہذیبیں صرف جنگ نہیں جیتتیں،
وہ زندگی کو منظم کرنا بھی جانتی ہیں۔
جب دہلی نے دکن کا رخ کیا
چودہویں صدی میں سلطان محمد بن تغلق نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا:
دہلی سے اپنا دارالحکومت دولت آباد منتقل کرنے کا۔
یہ تجربہ تاریخی طور پر ناکام ثابت ہوا،
مگر اس نے دولت آباد کو برصغیر کی تاریخ کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔
یہ قلعہ بعد میں بہمنی، احمد نگر، مغل، مراٹھا اور نظامِ حیدرآباد کے ادوار سے گزرا،
مگر اس کی ہیبت اور ناقابلِ تسخیر حیثیت ہمیشہ برقرار رہی۔
چاند مینار — فتح کی علامت
قلعے کے اندر موجود چاند مینار
فتح مندی کی ایک خاموش مگر بلند گواہی ہے۔
یہ مینار صرف اینٹ اور پتھر نہیں،
بلکہ اس دور کی فنی حس، سیاسی طاقت اور ثقافتی اظہار کی علامت ہے۔
آج بھی زندہ ایک سبق
آج جب کوئی نوجوان یا عام قاری دولت آباد کے راستوں پر چلتا ہے،
تو وہ صرف ایک قلعہ نہیں دیکھتا،
وہ انسان کی سوچ، منصوبہ بندی اور حوصلے کا سفر دیکھتا ہے۔
دولت آباد ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ
اصل طاقت صرف بلندی میں نہیں،
بلکہ بصیرت میں ہوتی ہے۔
یہ قلعہ آج بھی کھڑا ہے—
خاموش، مضبوط اور باوقار،
جیسے تاریخ نے خود کو پتھر میں محفوظ کر لیا ہو۔
