Skip to content
Home » Blog » چانکیہ، عقل، طاقت اور بقا کا فلسفی

چانکیہ، عقل، طاقت اور بقا کا فلسفی

  • by

چانکیہ، عقل، طاقت اور بقا کا فلسفی

شارق علی
ویلیوورسٹی

چانکیہ، جسے کوٹلیہ یا وشنو گپت بھی کہا جاتا ہے، قدیم ہندوستان کی اُن غیر معمولی شخصیات میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ وہ غالباً چوتھی صدی قبلِ مسیح میں پیدا ہوا۔ مؤرخین کے مطابق اس کی پیدائش اور تربیت ٹیکسلا کے علمی ماحول سے جڑی سمجھی جاتی ہے، جہاں اس نے فلسفہ، سیاست اور ریاستی نظم و نسق کی تعلیم حاصل کی۔ ٹیکسلا اُس دور کی ایک عظیم یونیورسٹی تھی، اور چانکیہ اسی فکری فضا کی پیداوار تھا۔
چانکیہ کا بنیادی طرزِ فکر حقیقت پسندانہ (Realist) تھا، نہ کہ خیالی یا رومانوی۔ وہ انسان کو جیسا ہے، ویسا ہی دیکھتا تھا—
طاقت کا بھوکا، مفاد پرست اور موقع شناس۔

اسی حقیقت پسندی کا شاہکار اس کی شہرۂ آفاق تصنیف ارتھ شاستر ہے، جو سیاست، معیشت، جاسوسی، دفاع اور حکمرانی کا ایک جامع دستور ہے۔
چانکیہ نے چندرگپت موریہ کو ایک عام نوجوان سے اٹھا کر برصغیر کی پہلی منظم سلطنت کا بانی بنایا۔ یہی اس کی تاریخی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

اس کا مشہور قول:
“اگر سانپ زہریلا نہ بھی ہو، تب بھی اسے زہریلا نظر آنا چاہیے”
چانکیہ کے پورے فلسفے کا نچوڑ ہے۔ وہ تشدد کی تبلیغ نہیں کرتا، بلکہ تحفظِ ذات کی بات کرتا ہے۔ اس کے نزدیک طاقت کا اظہار، اکثر طاقت کے استعمال سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ جو شخص حد سے زیادہ نرم ہو، دنیا اسے کچل دیتی ہے، اور جو باوقار، باخبر اور مضبوط دکھائی دے، اس کے گرد خود بخود ایک حفاظتی دائرہ بن جاتا ہے۔
چانکیہ آج بھی زندہ ہے۔ ہر اُس شخص میں جو عقل کے ساتھ طاقت کو متوازن رکھنا جانتا ہے۔
یہی اس کی اصل وراثت ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *