Skip to content
Home » Blog » موستار: پل، دریا اور زندہ تاریخ، ایڈریاٹک کنارے

موستار: پل، دریا اور زندہ تاریخ، ایڈریاٹک کنارے

  • by

موستار: پل، دریا اور زندہ تاریخ، ایڈریاٹک کنارے

آٹھویں قسط

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہماری کوچ نیوم سے موستار کی جانب روانہ تھی۔ میں کھڑکی کے ساتھ بیٹھا باہر کے مناظر خاموش دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ راستے میں نہ بلند پہاڑی سلسلے تھے، نہ سرسبز و شاداب میدان۔ جھاڑیوں سے ڈھکی ہلکی اونچی پہاڑیاں، زیادہ تر خشک اور بنجر زمین، اور کہیں کہیں زراعت کے آثار دکھائی دیتے تھے۔ قصبے اور گاؤں نسبتاً کم آباد، سست رفتار اور خاموش نظر آے۔ سڑک کے کنارے دکانوں کے سامنے یا گھروں کی دہلیز پر بیٹھے لوگ دکھائی دے جاتے تھے۔ ان کے چہروں پر نہ کوئی جلدی تھی، نہ کسی واضح مصروفیت کا اظہار۔ غربت کا تاثر تو نہیں تھا، مگر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت کہیں ٹھہر سا گیا ہو۔

اس خطے میں مسلم آبادی کی اکثریت ہے۔ رہن سہن سادہ، وسائل محدود، اور زندگی کی رفتار دھیمی دکھائی دیتی ہے۔ شاید جغرافیہ انسانوں کے مزاج اور ثقافت پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ ممکن ہے بنجر پہاڑ، کم زرخیز زمین اور محدود امکانات نے زندگی کو یہ ٹھہراؤ عطا کیا ہو۔

تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد ہماری کوچ موستار کی حدود میں داخل ہوئی۔ کھڑکی سے باہر کا منظر بدلنے لگا، جیسے شہر آہستہ آہستہ اپنا تعارف خود کروا رہا ہو۔ ابتدا میں نسبتاً جدید علاقے دکھائی دیے۔ اپارٹمنٹ بلاکس، چھوٹی دکانیں، اسکولوں کے سامنے کھڑے بچے، اور سڑک کے کنارے جاری روزمرہ زندگی۔ بالکل کسی عام چھوٹے یورپی شہر کی مانند۔ تاہم پس منظر میں ہلکے اونچے پہاڑ اس شہر کی الگ پہچان بنے کھڑے تھے۔

کچھ ہی دیر بعد ہم کوچ اسٹیشن پہنچے۔ پارکنگ میں کوچ سے باہر اترتے ہی ایک نئی گائیڈ چھتری ہاتھ میں لیے ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔ سب کو ایک جگہ جمع کیا گیا۔ پانچ دس منٹ کا وقفہ دیا گیا۔ پھر مختصر بریفنگ اور چند ضروری ہدایات کے بعد ہمیں اپنے پیچھے آنے کو کہا گیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ گائیڈ کے ساتھ ساتھ یہ شہر خود بھی ہم سے بات کرے گا۔ اپنی گلیوں، آتے جاتے لوگوں اور کہانیوں کے ذریعے سے۔

موستار بوسنیا اور ہرزیگووینا کا وہ شہر ہے جس کی شناخت ایک پل، ایک دریا اور صدیوں پر پھیلی اجتماعی یادداشت سے جڑی ہے۔ اس کا نام موستار یعنی پل کے نگہبانوں کا شہر ہے۔ یہ شہر ہمیشہ ملاپ کا استعارہ رہا ہے۔ مشرق اور مغرب کے درمیان، ماضی اور حال کے درمیان، اور زخموں اور امیدوں کے بیچ ایک پُل کی مانند۔ دریائے نیرتوا کے اوپر قائم اس کا مشہور پل ستاری موست سولہویں صدی میں عثمانی دور میں تعمیر ہوا۔ یہ محض پتھروں کا ڈھانچا نہیں، بلکہ زندہ تاریخ ہے۔

انیس سو نوے کی دہائی کی جنگ میں اس پل کا ٹوٹ جانا صرف ایک عمارت کی تباہی نہیں تھا، بلکہ اجتماعی یادداشت کو لگنے والا ایک گہرا زخم تھا۔ پھر اسی پل کا قدیم طریقوں اور اصل پتھروں سے دوبارہ تعمیر ہونا اس بات کی علامت بن گیا کہ قومیں چاہیں تو بکھرنے کے بعد خود کو پھر سے جوڑ سکتی ہیں۔

گائیڈ کے پیچھے چلتے ہوئے ہم پہلے جدید شہر کے حصے سے گزرے۔ تقریباً دس منٹ بعد اس تاریخی پل کے قریب پہنچے، جس کے اردگرد سیاحتی دلچسپی کی بے شمار چھوٹی بڑی دکانیں تھیں۔ پھر وہی خمدار پتھروں کا مشہور تاریخی پل، ایک خوبصورت قوس کی صورت میں، جس کے نیچے فیروزی رنگ کا نیرتوا دریا بہتا ہے۔ پل عبور کرتے ہی ہم قدیم موستار میں داخل ہو گئے۔ پتھروں سے بنی تنگ گلیاں، قطار در قطار دکانیں، تانبے کے برتن، دستکاریاں، اور ترک کافی کی مہک۔ ہم ایک مسجد تک پہنچے، جہاں چند لمحے خاموش دعا میں گزارے گئے

واپسی پر دریا کے کنارے پہاڑی ڈھلوان پر بنے ریستورانوں کی قطار دکھائی دی، جو تقریباً سب سیاحوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔

خوش قسمتی سے ہمیں ایک اچھے سے پوش ریستوران میں ایسی جگہ مل گئی جہاں سے دریا، پل، اور اس کے اوپر کھڑے وہ نوجوان صاف نظر آتے تھے جو دریا میں کودنے کے لیے تیار تھے۔ گرمیوں میں مقامی نوجوانوں کا اس بلندی سے برف جیسے ٹھنڈے پانی میں چھلانگ لگانا محض سیاحتی مظاہرہ نہیں، بلکہ بہادری، شناخت اور روایت کا تسلسل ہے۔ ہم نے وہیں نہایت ذائقہ دار اور اعلیٰ درجے کا حلال کھانا کھایا۔ سادہ، مگر یادگار۔

اگرچہ شہر کی دیواروں پر جنگ کے نشانات اب بھی دکھائی دیتے ہیں، مگر زندگی نے خود کو آہستہ آہستہ پھر سے ترتیب دے لیا ہے۔ یوں موستار آج ایک ایسا شہر ہے جہاں تاریخ سانس لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ایک ایسا شہر جس نے دکھ دیکھے، مگر امید کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔۔جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *