🌅 موتیوں کا ہار
ایڈریاٹک کنارے
چوتھی قسطِ
شارق علی
ویلیوورسٹی
پردوں سے چھن کر آنے والی صبح کی روشنی اور جلدی جاگنے کی عادت نے ہمیں بیدار کر دیا۔ ہوا میں ہلکی خنکی اور سمندر کے نمکین جھونکوں کی مہک تھی۔ پردہ ذرا سا سرکایا تو نیلے آسمان پر بادلوں کے نقش و نگار ایسے لگ رہے تھے جیسے کسی مصور کے برش نے کمال دکھایا ہو۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور طے ہو گیا کہ ناشتہ گھر ہی پر کیا جائے گا۔
سیلف کیٹرنگ گیسٹ ہاؤس کا کچن چھوٹا مگر مکمل تھا۔ چولہا، برتن، اور ہمارے لائے ہوئے لوازمات و مصالحے—سب کچھ عین ہمارے ذوق کے مطابق۔ مونا نے انڈے پھینٹے، میں نے چائے چڑھائی، اور جلد ہی آملیٹ، کروسان، مکھن، ٹوسٹ اور بھاپ اڑاتی چائے کی خوشبو نے ڈائننگ ہال کو مہکا دیا۔ دیسی چائے کی مہک نے کراچی کے ناشتے کی یاد تازہ کر دی۔
بچے ذرا دیر سے جاگے۔ جب انہوں نے ٹیبل پر آملیٹ اور چائے دیکھی تو چہروں پر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بوریت بھی ظاہر ہوئی۔ “اوہ ڈیڈ، ناٹ اگین!” والا انداز۔ ہم نے مسکرا کر مونزو کارڈ ان کے حوالے کیا۔ تینوں خوشی خوشی نیچے پرومناڈ کی طرف نکل گئے۔ ساحل کے کنارے کسی ٹم ہورٹن یا کوسٹا کافی جیسے کیفے میں “چیز ٹوسٹی” اور “کیپوچینو” سے لطف اندوز ہوئے اور ہنستے مسکراتے واپس آئے۔
جب مشرقی اور مغربی دونوں ناشتے مکمل ہو گئے تو اوبر منگوائی گئی۔ کار چند منٹ میں ہمارے دروازے پر آن کھڑی ہوئی۔ موسم کے لحاظ سے ہلکے لباس پہنے ہم روانہ ہوئے۔ آج ہمارا ارادہ ڈبروونک والڈ سٹی (Dubrovnik Walled City) کی سیر کرنے کا تھا۔ ہماری رہائش ساحلی مضافات میں تھی، تقریباً پندرہ بیس منٹ کی مسافت پر۔
اوبر نے ہمیں والڈ سٹی کے دروازے سے ذرا پہلے، پہاڑی کے اوپر جاتی چیئر لفٹ کے قریب اتار دیا۔ یہ وہ چیئر لفٹ تھی جو سامنے والی پہاڑی کی چوٹی تک لے جاتی ہے، جہاں سے پورے علاقے — والڈ سٹی، جدید شہر، اور اردگرد کے ساحلی مناظر — کا بھرپور نظارہ کیا جا سکتا ہے۔
کیبل کار اسٹیشن پر مہذب سا رش تھا۔ قطار موجود تھی مگر لمبی نہیں۔ جرمن، فرانسیسی اور مشرقی ایشیائی چہرے دکھائی دے رہے تھے، مگر وہ تھکا دینے والی بھیڑ نہیں تھی جو لندن، پیرس یا روم میں اکثر نظر آتی ہے۔
ٹکٹ ونڈو پر بارہ یورو فی کس ٹکٹ ملا، جس میں اوپر جانا اور واپسی دونوں شامل تھے۔ ٹکٹ کے ساتھ ایک خوش اخلاق مسکراہٹ بھی ملی — “Welcome to Dubrovnik!”
ہم ایک صاف ستھری، کشادہ کیبل کار میں داخل ہوئے۔ چاروں طرف شیشے کی کھڑکیاں، گویا زمین سے آسمان کی سمت جاتے شفاف قفس میں بیٹھے پرندے ہوں۔ جیسے جیسے کیبل کار بلند ہوتی گئی، نیچے موجود والڈ سٹی آہستہ آہستہ ہمارے قدموں تلے دور جاتا محسوس ہونے لگا۔
ابتدا میں نیچے قدیم شہر کی لال چھتوں والے مکانات ایک خوبصورت قالین کی مانند دکھائی دیے۔ مزید بلندی پر جدید شہر کے سفید اور کریم رنگ کے گھر بھی نظر آنے لگے، جن کے درمیان کہیں کہیں وہی سرخ ٹائلوں والی چھتیں جھلملاتی تھیں — جیسے تاریخ کے دو دھاروں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رکھا ہو۔
بلندی کے ساتھ مناظر بدلتے گئے۔ اب ایڈریاٹک سمندر کی نیلی چادر افق تک پھیلی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کا رنگ ہلکا سبز اور پھر گہرا نیلا تھا، جیسے کسی نے پانی میں نیلم گھول دیا ہو۔ بائیں جانب سمندر میں ایک خوبصورت جزیرہ نظر آیا — لوکرم (Lokrum Island)۔ سرسبز درختوں میں لپٹا یہ جزیرہ جیسے کسی کہانی کی کتاب میں اچانک نمودار ہوا کوئی کردار۔
ڈبروونک کے ساحل سے چند سو میٹر کے فاصلے پر یہ پراسرار جزیرہ کبھی بینیڈکٹین راہبوں کی خانقاہ تھا۔ کہا جاتا ہے ان کی بد دعا کے بعد یہاں کبھی کوئی مستقل آبادی نہیں بس سکی۔ اب یہاں صرف ساحلی درختوں کے جُھنڈ ہیں، زیتون کے درخت اور ایک نمکین “مردہ سمندر” جھیل۔ جزیرے کا نام لاطینی لفظ Acrumen سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے “کھٹا پھل”۔ کبھی یہاں نایاب پودے اور لیموں کے باغات ہوا کرتے تھے۔
روایت ہے کہ بارہویں صدی میں انگلستان کا بادشاہ Richard the Lionheart سمندری طوفان سے بچ کر اسی جزیرے پر پناہ گزین ہوا تھا۔ بعد ازاں انیسویں صدی میں میکسیکو کے بادشاہ Maximilian نے یہاں ایک خوبصورت باغ بنوایا اور اس میں مور لا کر چھوڑے۔ یہ مور آج بھی یہاں آزاد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ کیبل کار کی بلندی سے یہ جزیرہ فطرت، تاریخ اور افسانے کا حسین امتزاج محسوس ہوا۔
لوکرم کے علاوہ ایڈریاٹک سمندر میں کئی اور دلکش جزیرے بھی ہیں جو ڈبروونک کے ساحل کو کسی خواب کی طرح گھیرے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا اور زرخیز جزیرہ Sipan ہے جسے “Golden Island” کہا جاتا ہے۔ یہاں زیتون کے درخت اتنی کثرت سے ہیں کہ کہا جاتا ہے دنیا میں کسی اور جزیرے پر فی کس اتنے زیتون کے درخت نہیں۔
ان جزیروں پر ٹریفک کا کوئی شور نہیں، صرف سمندری ہواؤں کی سرگوشیاں ہیں اور قدموں کے نیچے نرم ریت۔ یہ ساحل دنیا کے چند نایاب ریتلے ساحلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ڈبروونک سے چند منٹ کی کشتی پر ایک اور جزیرہ ہے جس کی گہری نیلی غاریں، پتھریلے گھر، اور سمندری خاموشی مل کر ایک جادوئی منظر پیدا کرتی ہیں۔
ایڈریاٹک سمندر میں بکھرے یہ تمام جزیرے گویا فطرت کی نازک انگلیوں سے پروئے ہوئے موتیوں کی لڑی ہیں، جو ڈبروونک کے گرد ایک قدرتی ہار کی مانند جھلملا رہے ہیں۔
