تحقیق و پیشکش
شارق علی
ویلیو ورسٹی
تاریخ کے صفحات میں بہت سی غیر معمولی خواتین کے تذکرے وقت کی گرد میں دب چکے ہیں۔ ان میں ایک نام مریم الاسطرلابی کا بھی شامل ہے۔ دسویں صدی کی اس شامی سائنسدان اور ماہر فلکیات نے اسطرلاب جیسے پیچیدہ آلے کی تیاری اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اسطرلاب اس زمانے میں سمندری نیویگیشن، وقت کی پیمائش اور فلکیاتی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مریم نے اس آلے کو مزید بہتر بنایا اور اسلامی سنہری دور میں سائنسی ترقی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
حلب کے حکمران سیف الدولہ کی سرپرستی میں کام کرنے والی مریم نے فلکیات اور آلات سازی کے اس شعبے میں مہارت حاصل کی جو اس وقت زیادہ تر مردوں تک محدود تھا۔ ان کی غیر معمولی خدمات کے باوجود تاریخ میں ان کا ذکر بہت کم ملتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں ان کی شناخت بحال ہو رہی ہے۔
مریم الاسطرلابی کی علمی خدمات کا اعتراف ناسا نے بھی کیا، اور ان کے نام پر ایک سیارچے کا نام رکھا گیا۔ یہ ان کی علمی وراثت کے عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا ایک اہم ثبوت ہے۔
یہ کہانی صرف ماضی کے ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ آج کی خواتین کے لیے ایک ترغیب بھی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی (STEM) کے میدانوں میں مسلم خواتین کو اپنی جگہ بنانے کی ضرورت ہے، جیسا کہ مریم الاسطرلابی نے صدیوں پہلے کیا تھا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر آسمان مریم الاسطرلابی کی حد نہیں تھا، تو آج کی خواتین کے لیے بھی کوئی حد حتمی نہیں ہونی چاہیے۔