مائیکل ڈی بیکی، وہ سرجن جس نے سرجری کروانے سے انکار کر دیا
شارق علی
ویلیوورسٹی
31 دسمبر 2005 کی شام، 97 سالہ مائیکل ڈی بیکی ہیوسٹن میں اپنے مطالعہ گاہ میں لیکچر کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک سینے میں چیرتی ہوئی شدید درد کی لہر اٹھی۔ یہ عام نوعیت کا درد نہیں تھا۔ وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ ایورٹک ڈسیکشن ہے — شہ رگ کی اندرونی دیوار کا مہلک پھٹ جانا۔ یہی وہ بیماری تھی جس کے وہ ماہر سرجن تھے اور جس کی درجہ بندی انہوں نے خود متعارف کروائی تھی، جو آج بھی “DeBakey Classification” کے نام سے جانی جاتی ہے۔
سی ٹی اسکین نے تصدیق کر دی: ٹائپ II ایورٹک ڈسیکشن۔
ڈاکٹروں نے فوری سرجری کا مشورہ دیا، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ یہ جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ماہر سرجن کا تکنیکی اور حسابی تجزیہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ 97 برس کی عمر میں اتنی بڑی سرجری جسم پر کس قدر شدید دباؤ ڈالتی ہے۔
انہوں نے واضح طور پر “Do Not Resuscitate” آرڈر پر دستخط کر دیے۔ موت کو انہوں نے سکون سے قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔
چند دن بعد حالت بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔ اب مسئلہ صرف طبی نہ رہا بلکہ اخلاقی بھی بن گیا۔ کیا ایک باشعور مریض کی تحریری ہدایت کا احترام کیا جائے یا اس عظیم سرجن کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی جائے؟
ہیوسٹن میتھوڈسٹ ہسپتال میں ایتھکس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ بالآخر ان کی اہلیہ اور قریبی ساتھیوں کے اصرار پر سرجری کی اجازت دی گئی۔
9 فروری 2006 کو آپریشن ہوا۔ کئی سرجن، جو خود ان کے شاگرد تھے، آپریشن تھیٹر میں موجود تھے۔ شہ رگ کا متاثرہ حصہ کاٹ کر مصنوعی Dacron graft لگایا گیا — وہی گرافٹ جسے ڈی بیکی نے دہائیوں پہلے سرجری کے شعبے میں رواج دیا تھا۔
سات گھنٹے کی سرجری اور آٹھ ماہ کی بحالی کے بعد وہ مکمل صحت یاب ہو گئے۔ دوبارہ لیکچر دینے لگے اور اپنی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔
1908 میں لبنانی نژاد والدین کے ہاں پیدا ہونے والے ڈی بیکی نے اپنے پیشہ ورانہ طبی کیریئر کے دوران رولر پمپ ایجاد کیا، بائی پاس سرجری کو ترقی دی اور جدید قلبی سرجری کی بنیادیں استوار کیں۔
جولائی 2008 میں، سو سال کی عمر سے چند ہفتے قبل، وہ وفات پا گئے۔
ان کی کہانی کا سب سے گہرا پہلو یہی ہے: جس سرجن نے لاکھوں دلوں کو دھڑکنے کا موقع دیا، اسے خود اپنی زندگی کی قدر دوبارہ سمجھانے کی ضرورت پڑی۔ بالآخر طب نے اپنے ہی معمار کو بچا لیا۔
