Skip to content
Home » Blog » قدیم روابط: اتفاق یا چھپی ہوئی تاریخ؟

قدیم روابط: اتفاق یا چھپی ہوئی تاریخ؟

قدیم روابط: اتفاق یا چھپی ہوئی تاریخ؟

تحقیق و تحریر:

شارق علی
ویلیو ورسٹی

تاریخ حیرت انگیز رازوں سے بھری ہوئی ہے، اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک قدیم مجسمہ ایکواڈور میں دریافت ہوا، جبکہ دوسرا میسوپوٹامیا (جدید عراق) میں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان دونوں میں گہری مشابہت پائی جاتی ہے، حالانکہ ان دو تہذیبوں کے درمیان 8,000 میل کا فاصلہ اور ہزاروں سال کا زمانی فرق ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے؟

میسوپوٹامیا کا مجسمہ غالباً “نینورتا” نامی سومیری دیوتا کا ہے، جو جنگ اور زراعت سے منسلک تھا۔ دوسری جانب، ایکواڈور کا یہ مجسمہ فادر کارلو کریسپی کے جمع کردہ نوادرات میں شامل پایا گیا، جو ایک نامعلوم قدیم جنوبی امریکی تہذیب کے وجود پر سوالات اٹھاتا ہے۔

قدیم تہذیبوں کا ممکنہ تعلق

کیا ان مماثلتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ تہذیبیں کبھی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں؟

یہ نظریہ قدیم دنیا کے زیادہ باہم مربوط ہونے کے امکان کو تقویت دیتا ہے، جبکہ کچھ ماہرین اسے محض ایک اتفاق سمجھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پرندہ نما دیوتا مختلف تہذیبوں میں طاقت اور الوہیت کی علامت رہے ہیں، جیسے کہ سومیری دیوتا اور میسوامریکہ کے “کویٹزال کوٹل”۔

اتفاق یا کھوئی ہوئی تاریخ کا سراغ؟

یہ راز ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید ہماری قدیم تاریخ کے بہت سے پہلو ابھی تک پردۂ راز میں ہیں۔ کیا ہماری قدیم تہذیبیں ایک دوسرے سے زیادہ جڑی ہوئی تھیں؟ یا یہ محض تاریخ کی ایک پہیلی ہے؟

جواب تلاش کرنے کا سفر آج بھی جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *