Skip to content
Home » Blog » طب میں انسانی جسم کی دریافت

طب میں انسانی جسم کی دریافت

  • by

طب میں انسانی جسم کی دریافت

شارق علی
ویلیوورسٹی

پادوا کی قدیم یونیورسٹی کے ایک تشریحی ہال میں طلبہ کا مجمع لگا ہوا تھا۔ درمیان میں ایک میز پر ایک مردہ انسانی جسم رکھا تھا۔ اس کے قریب کھڑا ایک نوجوان استاد خود اپنے ہاتھوں سے اس کا ڈِسیکشن اور تشریح کر رہا تھا۔

اس زمانے کے لحاظ سے یہ ایک غیر معمولی منظر تھا، کیونکہ اس دور میں استاد صرف کتابیں پڑھاتے تھے اور عملی کام سے دور رہتے تھے۔

مگر یہ نوجوان استاد روایت شکن تھا۔ اس کا نام تھا اینڈریاس ویسالیس۔

ویسالیس 1514 میں برسلز میں پیدا ہوا۔ اس نے لیووین اور پیرس میں تعلیم حاصل کی اور 1537 میں اٹلی کی مشہور یونیورسٹی آف پادوا سے طب کی ڈگری حاصل کی۔ جلد ہی وہ اناٹومی کا پروفیسر بن گیا۔

اس زمانے میں طب کی تعلیم زیادہ تر قدیم یونانی طبیب گیلن (Galen) کی تحریروں پر مبنی تھی، جنہیں صدیوں سے ناقابلِ سوال سچ سمجھا جاتا تھا۔

ویسالیس نے اس روایت کو چیلنج کیا۔ اس نے انسانی جسم کی براہِ راست تشریح کے ذریعے تحقیق شروع کی اور طلبہ کو بتایا کہ علم صرف کتابوں سے نہیں بلکہ مشاہدے اور تجربے سے بھی حاصل ہوتا ہے۔

1543 میں اس نے اپنی مشہور کتاب
De Humani Corporis Fabrica
شائع کی۔ اس کتاب میں انسانی جسم کی ساخت کو سینکڑوں تفصیلی تصویری خاکوں کے ساتھ بیان کیا گیا تھا۔

انسانی تاریخ میں پہلی بار اناٹومی کو اس قدر واضح اور سائنسی انداز میں پیش کیا گیا تھا۔

ان تحقیقات کے نتیجے میں ویسالیس نے یہ ثابت کیا کہ گیلن کی بہت سی تشریحات درست نہیں تھیں، کیونکہ گیلن نے زیادہ تر جانوروں کی تشریح کی تھی، نہ کہ انسانوں کی۔

ویسالیس کے اس جراتمندانہ کام نے طب کی دنیا میں ایک نیا دور شروع کیا۔ اسی لیے آج اسے بجا طور پر جدید انسانی اناٹومی کا بانی کہا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *