صحت مند لوگوں کا پاگل پن ، روزنہان ایکسپیریمنٹ
شارق علی
ویلیوورسٹی
1973 میں امریکی ماہرِ نفسیات David Rosenhan نے ایک ایسا تجربہ کیا جس نے ذہنی صحت کے نظام کی بنیادیں ہلا دیں۔ ان کی تحقیق معروف سائنسی جریدے Science میں شائع ہوئی اور اس کا عنوان تھا: On Being Sane in Insane Places۔
روزنہان نے آٹھ ذہنی طور پر صحت مند افراد کو مختلف نفسیاتی ہسپتالوں میں داخل کرایا۔ انہوں نے صرف ایک جھوٹی علامت ظاہر کی۔ آوازیں سننے کا دعویٰ۔ طبی زبان میں اسے کہتے ہیں اڈیٹری ہیلوسینیشن۔
داخلے کے بعد انہوں نے ہر قسم کی غیر معمولی حرکات بند کر دیں اور بالکل نارمل انداز میں رہنے لگے۔ اس کے باوجود کسی ڈاکٹر یا عملے نے ان کی ذہنی صحت کو تسلیم نہیں کیا۔ ان سب کو شیزوفرینیا کی تشخیص دی گئی اور ان کی عام حرکات، جیسے ڈائری لکھنا، کو بیماری کی علامت قرار دیا گیا۔ اوسطاً انہیں 19 دن ہسپتال میں رکھا گیا۔
جب ایک ہسپتال نے روزنہان کو چیلنج کیا کہ مزید جعلی مریض بھیجے جائیں، تو تین ماہ میں 41 افراد کو مشتبہ طور پر صحت مند روشنیاں کے بھیجے لوگ قرار دیا گیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ روزنہان نے کسی ایک مریض کو بھی نہیں بھیجا تھا۔
اگرچہ بعد میں صحافی Susannah Cahalan نے اپنی کتاب The Great Pretender میں اس تحقیق کے کچھ پہلوؤں پر سوال اٹھائے، مگر اس تجربے نے ذہنی بیماری کی تشخیص، ادارہ جاتی رویوں اور “لیبلنگ” کے مسئلے پر گہری بحث چھیڑ دی۔
یہ مطالعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کبھی کبھی مسئلہ انسان میں نہیں، بلکہ اس نظر میں ہوتا ہے جس کی مدد سے ہم اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں اس صورتحال کا تجزیہ کر رہے ہوتے ہیں
