سومیری تہذیب: وقت اور تقدیر کی دریافت
شارق علی
ویلیوورسٹی
انسانی تاریخ میں سومیری تہذیب کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ تہذیب تقریباً 4100 قبل مسیح سے 1750 قبل مسیح تک دجلہ اور فرات کے درمیان زرخیز میدانوں میں پروان چڑھی۔ سومر کو اکثر “مہذب بادشاہوں کی سرزمین” کہا جاتا ہے، آور بجا طور پر، کیونکہ یہی وہ معاشرہ تھا جہاں انسان نے پہلی بار منظم شہری زندگی، قانون، تحریر اور ریاست کا تصور قائم کیا۔
سومیریوں کی سب سے حیران کن فکری کامیابی وقت کی پیمائش تھی۔ انہوں نے ساٹھ پر مبنی عددی نظام متعارف کرایا، جس کی بنیاد پر آج بھی ایک گھنٹہ ساٹھ منٹ اور ایک منٹ ساٹھ سیکنڈ پر مشتمل ہے۔ یوں جدید دنیا کی گھڑی دراصل قدیم سومر کی سوچ کی وراثت ہے۔
مذہب سومیری زندگی کا مرکز تھا۔ وہ طاقتور دیوتاؤں کے ایک گروہ پر ایمان رکھتے تھے جنہیں انُوناکی کہا جاتا تھا۔ ان کے عقیدے کے مطابق یہ دیوتا آسمان اور زمین کی اولاد تھے اور انسانوں کی قسمت، زندگی اور موت کے فیصلے کرتے تھے۔ سومیری اساطیر میں ان دیوتاؤں کو انسانی اعمال پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو اس دور کے انسان کے اخلاقی شعور اور خوف و امید کی عکاسی کرتا ہے۔
اگرچہ آج ان کہانیوں کو اساطیر سمجھا جاتا ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ سومیریوں نے پہلی بار انسان کو یہ سکھایا کہ کائنات محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک قابلِ فہم نظام ہے۔ تحریر، قانون، وقت اور مذہب۔ یہ سب سومر کی وہ اینٹیں ہیں جن پر بعد کی تمام تہذیبیں تعمیر ہوئیں۔
سومر دراصل وہ مقام ہے جہاں انسان نے تاریخ میں پہلی بار سوچنا شروع کیا۔
