سقراط اور جمہوریت
شارق علی
ویلیوورسٹی
قدیم ایتھنز کے ایک چوک میں لوگ جمع تھے۔ سقراط اپنے مخصوص انداز میں سوالات کر رہا تھا۔
اس نے مجمع کی طرف دیکھ کر ایک عجیب سا سوال کیا:
“فرض کرو الیکشن میں دو امیدوار کھڑے ہوں۔ ایک طبیب ہے اور دوسرا حلوائی۔ طبیب کڑوی دوا دیتا ہے اور ذہنی طور پر نابالغ عوام میں مقبول نہیں، جبکہ حلوائی کہتا ہے کہ مجھے ووٹ دو، میں تمہیں مزید مٹھائیاں دوں گا۔
تو بتاؤ، زیادہ تر لوگ کس کو منتخب کریں گے؟”
لوگ مسکرانے لگے۔ جواب واضح تھا:
“حلوائی کو!”
سقراط نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور کہا:
“مگر امراض کا علاج کون کرے گا؟”
یہ سادہ سی مثال دراصل جمہوریت پر اس کی گہری تنقید تھی۔ اس کے خیال میں ریاست چلانا بھی ایک پیشہ ورانہ مہارت اور فن ہے، بالکل ویسے ہی جیسے طب یا جہاز رانی۔ اگر جہاز کے مسافر ووٹ دے کر کسی ناتجربہ کار شخص کو کپتان بنا دیں تو پورا جہاز خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ریاست کے فیصلے صرف عوامی مقبولیت کی بنیاد پر ہوں تو معاشرہ غلط سمت میں جا سکتا ہے۔
سقراط کو یہ خدشہ تھا کہ جمہوریت میں اکثر لوگ اس شخص کو منتخب کرتے ہیں جو خوش کن وعدے کرے، نہ کہ وہ جو مشکل مگر ضروری فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اچھے خطیب اور جذبات کو بھڑکانے والے لوگ عوام کو متاثر کر سکتے ہیں، چاہے ان کے پاس حقیقی حکمت نہ ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دو ہزار سال بعد بھی دنیا کی بہت سی جمہوریتوں میں ہمیں یہی مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔ سیاست میں اکثر مقبولیت اور نعرے بازی دانائی اور دوراندیشی پر غالب آ جاتی ہے۔
شاید اسی لیے سقراط کا اصل مقصد جمہوریت کو مکمل طور پر رد کرنا نہیں تھا، بلکہ لوگوں کو یہ یاد دلانا تھا کہ کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت صرف ووٹ نہیں، بلکہ باشعور عوام ہوتے ہیں۔ وہ عوام جو علم اور کردار کی اہمیت کو سمجھ سکیں اور اسی بنیاد پر اپنے رہنما منتخب کر سکیں
