Skip to content
Home » Blog » دوستی کا بحران: تنہائی کا بڑھتا سایہ

دوستی کا بحران: تنہائی کا بڑھتا سایہ

  • by

دوستی کا بحران: تنہائی کا بڑھتا سایہ

شارق علی
ویلیوورسٹی

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مگر اس تبدیلی کے بڑھتے شور میں ایک خاموش بحران جنم لے چکا ہے—
Friendship Recession۔

Harvard Business Review کے مطابق، پچھلے تیس برسوں میں امریکا میں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ان کے کوئی قریبی دوست نہیں، ان کی تعداد چار گنا بڑھ کر 12 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اسی دوران وہ افراد جن کے دس یا اس سے زیادہ قریبی دوست ہوتے تھے، ان کی تعداد میں ایک تہائی کمی آ گئی ہے۔

یہ مسئلہ صرف امریکا تک محدود نہیں۔ بھارت کے شہری علاقوں میں بھی یہی صورتِ حال نظر آتی ہے۔ جان پہچان تو بڑھ رہی ہے، مگر سچی دوستی کم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ پہلے کیفے، کلبوں اور مختلف تقریبات میں اجنبیوں سے بات چیت کر لیتے تھے، مگر اب ہجوم میں رہتے ہوئے بھی اکثریت تنہائی کا شکار ہے۔

امریکا میں اکیلے کھانا کھانے والوں کی تعداد صرف دو برسوں میں 29 فیصد بڑھ گئی ہے۔ یہاں تک کہ Stanford University نے دوستی پر باقاعدہ ایک کورس شروع کر دیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ محض سماجی نہیں بلکہ اب ایک ثقافتی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ تنہائی دل کی بیماری، ڈیمنشیا اور قبل از وقت موت کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کے مضر اثرات روزانہ پندرہ سگریٹ پینے کے برابر سمجھے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس، دوستی ذہنی، جسمانی اور جذباتی صحت کے لیے ایک طاقت کی طرح کام کرتی ہے۔ ہارورڈ کی اسی سالہ تحقیق کا نتیجہ بھی یہی ہے کہ زندگی کی اصل خوشی اور بہتر صحت کا راز قریبی انسانی رشتوں میں پوشیدہ ہے۔

دولت اور آسودگی بڑھتی رہتی ہیں، زندگی کے مقام بدلتے رہتے ہیں، مگر سچا دوست وہ سرمایہ ہے جو کبھی کم نہیں ہوتا۔

اسی لیے دوستی کو وقت دیجئے، معاف کرنا سیکھئے، اور خوشگوار لمحوں کی خوبصورت یادیں سنبھال کر رکھئے۔ زندگی واقعی دلکش اور حسین ہو جاتی ہے، جب ساتھ چلنے والے چند سچے دوست موجود ہوں۔ 💕🌸

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *