Skip to content
Home » Blog » دماغ کا نقشہ سازWilder Penfield

دماغ کا نقشہ سازWilder Penfield

  • by

دماغ کا نقشہ ساز
Wilder Penfield

شارق علی
ویلیوورسٹی

انیسویں صدی کے آخر میں پیدا ہونے والا ایک کینیڈین نیوروسرجن یہ جاننا چاہتا تھا کہ ہمارے خیالات، یادیں اور احساسات آخر دماغ کے کس گوشے میں بستے ہیں۔ اس نیوروسرجن کا نام وائلڈر پینفیلڈ تھا۔

مرگی کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اسے ایک انوکھا موقع ملا۔ اُس زمانے میں دماغ کی سرجری کے دوران مریض کو مکمل بے ہوش نہیں کیا جاتا تھا، کیونکہ خود دماغ میں درد محسوس کرنے والے اعصاب نہیں ہوتے۔ پینفیلڈ دماغ کے مختلف حصوں پر ہلکی برقی رو کی تحریک دیتا اور مریض سے پوچھتا:
“آپ کو کیا محسوس ہوا؟”
جوابات حیران کن ہوتے۔
کسی حصے کو چھوتے ہی مریض کہتا:
“میرے ہاتھ میں سنسناہٹ ہو رہی ہے۔”
کسی اور جگہ تحریک دینے پر کوئی بول اٹھتا:
“میں اپنی ماں کی آواز سن رہا ہوں… جیسے بچپن میں سنا کرتا تھا۔”
کبھی کوئی کہتا:
“مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں کسی پرانی گلی میں چل رہا ہوں۔”

یوں آہستہ آہستہ دماغ کا ایک نقشہ ابھرنے لگا، جسے آج ہم “Penfield Homunculus” کے نام سے جانتے ہیں۔
یہ ایک عجیب و غریب انسانی پیکر ہے، جس میں ہاتھ، ہونٹ اور زبان غیر معمولی طور پر بڑے دکھائے جاتے ہیں، کیونکہ دماغ میں ان کے لیے زیادہ جگہ مختص ہے۔
پینفیلڈ کی تحقیق نے ہمیں یہ سکھایا کہ شعور کوئی پراسرار دھند نہیں، بلکہ حیاتیاتی ساخت میں پیوست ایک حقیقت ہے۔ تاہم اس نے خود بھی اعتراف کیا کہ یادوں کی گہرائی اور خودی کا راز اب تک مکمل طور پر نہیں کھلا۔

ایک سرجن نے چاقو اور برقی رو کی مدد سے دماغ کا جغرافیہ ترتیب دیا اور انسان کو اپنے ہی شعور کی سرحدوں سے روشناس کرانے کی بھرپور کوشش کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *